حدیث نمبر: 3907
عَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ " فَلَمْ يَحُرْ إِلَيْهِ شَيْئًا فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ فَقَالَ : " خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ " فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ عِنْدِهِ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَشَارَ الْمَرِيضُ : أَنْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ ثُمَّ نَادَاهُ : " يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ ؟ " قَالَ : أَجِدُنِي بِخَيْرٍ وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ ؟ " قَالَ : الْأَسْوَدُ ، قَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ " قَالَ : فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِدَعْوَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَا تَرَى ؟ " قَالَ : " خَيْرًا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَى الْخَيْرَ يَنْمَى وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ وَقَدِ اسْتَأْخَرَ عَنِّي الْأَسْوَدُ قَالَ : " أَيُّ عَمَلِكَ أَمْلَكُ بِكَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ مَا رَأَيْتُكَ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ ! ! قَالَ : " إِنِّي أَعْلَمُ مَا يَلْقَى مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ بِأَلَمِ الْمَوْتِ عَلَى حِدَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پیشانی پر رکھا اور دریافت کیا : تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہیں دیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی توجہ آپ سے ہٹی ہوئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اور اس کو الگ چھوڑ دو تو لوگ اس کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں رہنے دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا تو بیمار نے اشارہ کیا کہ آپ اپنا دست مبارک وہیں رکھ دیں جہاں یہ پہلے تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکار کر دریافت کیا : اے فلاں تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : میں اپنے اندر بہتری پا رہا ہوں ۔ میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ان میں سے ایک سیاہ تھا اور ایک سفید تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے کون تمہارے زیادہ قریب تھا ؟ اس نے جواب دیا : سیاہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا مطلب ہے بھلائی کم ہے ، اور برائی زیادہ ہے اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی دعاؤں سے نوازیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے اللہ زیادہ ( یعنی گناہوں ) کی مغفرت کر دے اور تھوڑے کو بڑھا دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : بہتری دیکھ رہا ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے دیکھا کہ بھلائی بڑھ رہی ہے ، اور میں نے دیکھا کہ برائی مضمحل ہو رہی ہے ، یہاں تک کہ سیاہ چیز مجھ سے پیچھے ہٹ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اپنے عمل میں سے کون سا عمل زیادہ بہتر محسوس ہو رہا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں پانی پلایا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! تم سن لو کیا تمہیں میری طرف سے کوئی چیز منکر ( یعنی عجیب ) محسوس ہو رہی ہے ؟ سیدنا سلمان نے عرض کی : جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو کئی مقامات پر دیکھا ہے ، لیکن جس طرح کی صورت حال میں آج دیکھا ہے اس طرح پہلے کبھی نہیں دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس چیز کو جانتا ہوں جس صورت حال کا سامنا یہ کر رہا ہے ایسی صورت حال میں ہر ایک رگ الگ طور پر موت کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔