کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرے
حدیث نمبر: 3899
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ! ؟ قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ كَرَاهِيَةً لِلْمَوْتِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ وَالْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ مَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ أَوْ مَا يَلْقَى مِنَ الشَّرِّ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ فَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا نہیں ہے بلکہ جب مؤمن کا آخری وقت قریب آتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنانے والا اس کے پاس آتا ہے اس وقت مؤمن کے نزدیک کوئی بھی چیز اس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور فاجر اور کافر شخص کا جب آخری وقت قریب آتا ہے ، تو اس کے پاس وہ صورت آتی ہے ، جس برائی کی طرف اس نے جانا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس برائی کا اس نے سامنا کرنا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3900
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ عَرَفْتُ فِيهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، رَأَيْتُ شَيْخًا أَبْيَضَ الرَّأْسِ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يَتْبَعُ جِنَازَةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : حَدَّثَنِي فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " قَالَ : الْقَوْمُ يَبْكُونَ ! ! فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكُمْ ؟ " قَالُوا : إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ! ! قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ إِذَا حُضِرَ فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ فَإِذَا بُشِّرَ بِذَاكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَائِهِ أَحَبُّ ، وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ فَإِذَا بُشِّرَ بِذَاكَ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلِقَائِهِ أَكْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : جب پہلی مرتبہ مجھے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ کی شناخت حاصل ہوئی تو اس کی یوں صورت حال ہوئی کہ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جن کے سر کے بال سفید تھے ، اور وہ ایک گدھے پر سوار تھے ، اور وہ ایک جنازے میں جا رہے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا فلاں بن فلاں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : لوگ رونے لگے تو انہوں نے فرمایا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم موت کو ناپسند کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے ، بلکہ جب آدمی کا آخری وقت قریب آتا ہے ، تو اگر وہ مقرب لوگوں میں سے ہوتا ہے ، تو اس کے لئے سرور آرام اور جنت نعیم ( کی خوشخبری ہوتی ہے ) اور جب کسی شخص کو اس کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی حاضری کو زیادہ پسند کرتا ہے ، اور اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو ، تو اس کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور اس کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ، جب اسے اس بات کی اطلاع دی جاتی ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ، اور اللہ تعالی اس کی حاضری کو زیادہ ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے ۔ عطاء بن سائب کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3900
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3901
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3901
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني ، باب الميم ، من اسمه محمود ، نمير بن أوس ، 16691»
حدیث نمبر: 3902
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ، اور موت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری سے پہلے ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3903
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا تَقُولُونَ لَهُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ : هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ : لِمَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمُغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ : قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا ارشاد فرمائے گا ؟ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے پہلے کیا عرض کریں گے ؟ ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے فرمائے گا : کیا تم لوگ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتے تھے تو وہ عرض کریں گے : جی ہاں ۔ اے ہمارے پروردگار ! اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا : وہ کیوں ؟ وہ عرض کریں گے : ہمیں تیرے معاف کرنے اور مغفرت کرنے کی امید تھی تو پروردگار فرمائے گا : تمہارے لئے میری مغفرت واجب ہو گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3904
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتُ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْفِتْنَةِ ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے موت حالانکہ موت اہل ایمان کے لئے فتنے سے زیادہ بہتر ہے ! اور آدمی مال کے کم ہونے کو ناپسند کرتا ہے ، حالانکہ مال کم ہونے کی صورت میں حساب بھی تھوڑا دینا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح