حدیث نمبر: 3893
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهَ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ " ، قَالَ : " ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انسان کو جب سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس وقت سے لے کر اس نے کبھی بھی کسی ایسی چیز کا سامنا نہیں کیا جو اس کے لئے موت سے زیادہ سخت ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر بعد کی صورت حال کے مقابلے میں موت زیادہ آسان ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3894
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ قَابُوسُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ آخری شدت ( یعنی سخت یا مشکل چیز ) جس کا مومن سامنا کرتا ہے وہ موت ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 3895
وَعَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أُمِتْنَا صَلَّى لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمِينَ مَا أَعْلَمُ عِلْمَ الْمَوْتِ - يَا بِنْتَ زَمْعَةَ - عَلِمْتِ أَنَّهُ أَشَدُّ مِمَّا تُقَدِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم مر جائیں گے ، تو عثمان بن مظعون ہمارے لئے دعائے رحمت کریں گے ؟ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس آ جائیں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے زمعہ کی صاحبزادی ! موت کے بارے میں ، جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان جاؤ ، تو تمہیں پتہ چل جائے کہ یہ اُس سے زیادہ سخت ہے ، جو تم اندازہ کر رہی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔