کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اچانک موت اور موت سے پہلے بیمار ہونا
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَوَّذُ مِنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَمْرَضَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اچانک موت سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔ آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی مرنے سے پہلے بیمار ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3882
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ : " رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ عَلَى الْفَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ مومن کے لئے راحت ہے ، اور فاجر شخص کے لئے افسوس ناک پکڑ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3883
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً