کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: طاعون کا بیان اس میں اپنی جگہ پر رہنے والے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3867
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ ، الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت صرف طعن اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ کے غدے کی مانند ایک غدہ ہے طاعون میں مقیم رہنے والا شخص شہید کی مانند ہو گا ، اور اس سے فرار اختیار کرنے والا شخص میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے شخص کی مانند ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3867
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3868
وَلَهَا عِنْدَ أَبِي يَعْلَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَخْزَةٌ تُصِيبُ أُمَّتِي مِنْ أَعْدَائِهِمُ الْجِنِّ ، غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ ، مَنْ أَقَامَ عَلَيْهَا كَانَ مُرَابِطًا وَمَنْ أُصِيبَ بِهِ كَانَ شَهِيدًا وَمَنْ فَرَّ مِنْهُ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَالصَّابِرُ عَلَيْهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ ایک وار ہے ، جو میری امت کو ان کے دشمنوں جنات کی طرف سے لاحق ہو گا یہ اونٹ کے غدہ کی مانند غدہ ہے ، جو شخص اس ( طاعون زدہ علاقے ) میں ٹھہرا رہے گا وہ پہرا دینے والا شمار ہو گا ، اور جو اس میں مر جائے گا وہ شہید شمار ہو گا ، اور جو اس سے فرار اختیار کرے گا وہ میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کی مانند ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور اس پر صبر کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہو گا“ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3868
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3869
وَلَهَا عِنْدَ الْبَزَّارِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " يُشْبِهُ الدُّمَّلَ يَخْرُجُ فِي الْآبَاطِ وَالْمُرَاقِ وَفِيهِ تَزْكِيَةُ أَعْمَالِهِمْ وَهُوَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ شَهَادَةٌ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَبَقِيَّةُ الْأَسَانِيدِ حِسَانٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ( وہ بیان کرتی ہیں : ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ پھوڑے کی مانند ہو گا ، جو بغلوں میں ، اور پیٹ کے نیچے والے حصے میں نکلے گا ، اس میں ان لوگوں کے اعمال کا تزکیہ ہو گا ، اور یہ ہر مسلمان کے لئے شہادت ہو گا ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اور باقی اسانید حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3870
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الطَّاعُونِ : " الْفَارُّ مِنْهُ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ ، وَمَنْ صَبْرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طاعون کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس سے فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کی مانند ہو گا ، اور جو اس میں صبر کرے گا اسے شہید کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد الله رضى الله عنه ، 14216 المعجـم الأوسط للطبراني، باب الباء من اسمه بكر ، حديث 3271 مسند عبد بن حميد ، من مسند جابر بن عبد الله 1119»
حدیث نمبر: 3871
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جِدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ : " إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا ، وَإِذَا وَقَعَ بِهَا وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تُقْدِمُوا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بن خالد مخزومی نے اپنے والد شاید اپنے چچا کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” جب طاعون کسی سرزمین میں واقع ہو جائے اور تم وہاں موجود ہو تو تم وہاں سے نہ نکلو اور جب یہ کسی جگہ پر واقع ہو جائے اور تم وہاں موجود نہ ہو ، تو تم وہاں نہ جاؤ“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3871
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3872
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ : " وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَا " . ¤ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب یہ کسی ایسی جگہ پر ہو کہ تم لوگ وہاں موجود نہ ہو ، تو تم اس جگہ کے قریب نہ جاؤ“ ۔
امام أحمد کی سند حسن ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3873
وَعَنْ زَيْدَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ رِجْسٌ أَصَابَ مَنْ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَلَدٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِبَلَدٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طاعون کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک تکلیف ہے ، جو تم سے پہلے لوگوں کو لاحق ہوئی تھی جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی شہر میں آ گئی ہے ، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ اس شہر میں آ جائے جہاں تم موجود ہو تو تم اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3874
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ الطَّاعُونَ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ عُبَادَةُ : أُمُّكَ هِنْدٌ أَعْلَمُ مِنْكُمْ فَأَتَمَّ خُطْبَتَهُ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُبَادَةَ فَنَفَرَتْ رِجَالُ الْأَنْصَارِ مَعَهُ فَأَجْلَسَهُمْ وَدَخَلَ عُبَادَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ وَتَسْتَحِي إِمَامَكَ ؟ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ : أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ثُمَّ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى ثُمَّ أَخَذَ بِقَائِمَةِ السَّرِيرِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ذَكَرْتُ لَكُمْ حَدِيثًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثَنِي عُبَادَةُ فَاقْتَبِسُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ مِنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
یعلی بن شداد بن اوس بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں طاعون کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری والدہ ہند تم سے زیادہ علم رکھتی ہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خطبہ مکمل کیا ، پھر انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بٹھایا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ اندر آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ ڈرتے نہیں ہیں اور اپنے امام سے حیاء نہیں کرتے ہیں تو سیدنا عبادہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں نے اللہ کے رسول کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گا پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے وقت تشریف لائے انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے پلنگ کے پائے کو پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے منبر پر تمہارے سامنے ایک بات ذکر کی تھی پھر میں گھر گیا تو اصل بات وہ ہے ، جو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی ، تو تم ان سے استفادہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3875
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَابِّهِ ، رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ خَلَفَ عَلَى أُمِّهِ بَعْدَ أَبِيهِ كَانَ شَهِدَ طَاعُونَ عَمُوَاسَ قَالَ : لَمَّا اشْتَغَلَ الْوَجَعُ قَامَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَقْسِمَ لَهُ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ : فَطُعِنَ فَمَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَاسْتَخْلَفَ عَلَى النَّاسِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَقَامَ خَطِيبًا بَعْدَهُ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ : فَطُعِنَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُهُ فَمَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ، ثُمَّ قَامَ فَدَعَا رَبَّهُ لِنَفْسِهِ فَطُعِنَ فِي رَاحَتِهِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ يُقَبِّلُ ظَهْرَ كَفِّهِ يَقُولُ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا فَلَمَّا مَاتَ اسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ إِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ فَقَالَ أَبُو وَائِلَةَ الْهُذَلِيُّ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ شَرٌّ مِنْ حِمَارِي هَذَا ! ! قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَرُدُّ عَلَيْكَ مَا تَقُولُ - وَايْمُ اللَّهِ - لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَدَفَعَهُ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مِنْ رَأْيِ عَمْرٍو فَوَاللَّهِ مَا كَرِهَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَشَيْخُهُ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب اشعری ، اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک شخص رابہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اپنے والد کے بعد اپنی والدہ کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے ان کے والد عمواس کے طاعون میں موجود رہے تھے وہ بیان کرتے ہیں : جب تکلیف پھیل گئی تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو بے شک یہ تکلیف تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے لوگوں کی موت کی وجہ ہے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس تکلیف میں سے ان کا حصہ انہیں عطا کرے راوی کہتے ہیں : تو انہیں طاعون ہو گیا اور ان کا بھی انتقال ہو گیا اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے اس کے بعد سیدنا معاذ بن جبل لوگوں کے امیر بنے اس کے بعد انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو یہ تکلیف تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو اس تکلیف میں سے ان کا حصہ عطا کرے راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن طاعون کا شکار ہو کر انتقال کر گئے پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے پروردگار سے اپنی ذات کے لئے دعا مانگی تو ان کی ہتھیلی میں طاعون ( کا نشان ) نمودار ہوا راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اس نشان کو دیکھتے تھے ، اور پھر اپنی ہتھیلی کی پشت کو بوسہ دیا کرتے تھے ، اور یہ فرماتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارے بدلے میں مجھے دنیا میں سے کچھ بھی مل جائے جب ان کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لوگوں کا امیر مقرر کیا گیا وہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو یہ تکلیف جب واقع ہوتی ہے ، تو یہ یوں پھیلتی ہے ، جس طرح آگ پھیل جاتی ہے ، تو تم لوگ اس کو چھوڑ کر مختلف پہاڑوں میں پھیل جاؤ تو سیدنا ابووائلہ ہذلی نے کہا: آپ غلط کہہ رہے ہیں اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہا ہوں اور آپ اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہیں تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم تم جو کہہ رہے ہو میں تمہیں اس کا جواب نہیں دوں گا اللہ کی قسم ہم اس جگہ پر نہیں ٹھہریں گے پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی چلے گئے وہ لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر بکھر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو طاعون سے محفوظ رکھا راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی جو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا موقف تھا ، تو اللہ کی قسم انہوں نے اس کو ناپسندیدہ قرار نہیں دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ شہر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کے استاد کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3875
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3876
وَعَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَهُ فَوْقَ إِجَارٍ لَهُ فَمَرَّ بِقَوْمٍ يَتَحَمَّلُونَ فَقَالَ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : قَوْمٌ يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - : تَتَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ [ فَإِنَّ الْمَوْتَ ] أَجْرُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبْ " قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي أُبَادِرُ خِلَالًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَخَوَّفُهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ : " إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ فِي الدِّينِ وَلَا بِأَعْلَمِهِمْ وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَأَعْلَمُ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک بلند جگہ پر موجود تھے کچھ لوگ گزرے جو سواری پر سوار تھے انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ طاعون سے بچنے کے لئے جا رہے ہیں تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے ان کے ایک بھتیجے نے ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان سے کہا: کیا آپ موت کی آرزو کر رہے ہیں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو نہ کرے ، کیونکہ موت مؤمن کے عمل کا اجر ہے ، اس کو ( دنیا میں ) لوٹایا نہیں جائے گا کہ اس کو ایک اور موقعہ دیا جائے “ ۔ تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں کچھ چیزوں کے آنے سے پہلے ( دنیا سے ) رخصت ہو جانا چاہتا ہوں جن چیزوں کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آخری زمانے میں نمودار ہوں گی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں ان چیزوں سے اندیشہ تھا ( وہ چیزیں یہ ہیں ) بے وقوفوں کی حکومت شرطیں زیادہ لگانا خون کو کمتر سمجھنا رشتے داری کے حقوق پامال کرنا اور نوجوانوں کا قرآن کو مزامیر کے طور پر اختیار کرنا ، لوگ کسی ایسے شخص کو آگے نہیں کریں گے جو دین کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو ، یا دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ان لوگوں میں زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا اور زیادہ علم والا موجود ہو گا ، لیکن وہ ایسے شخص کو ( امامت کے لئے ) آگے کریں گے جو قرآن گا کر سنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3877
وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ : وَقَدْ سَمِعْتُ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَيَكُونُ عِنْدَ انْقِطَاعِ أَجْلِهِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي الْإِمَارَةِ وَالْخِلَافَةِ وَالتَّوْبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اس طرح اس کی مہلت ختم ہو جائے گی“ ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے مختلف طرق ہیں جو حکومت کرنے اور خلافت اور توبہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3877
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف