حدیث نمبر: 3836
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ [ كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ . قَالَ : إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ ، ثُمَّ ] صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے داخل ہوا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے زید اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے ، تو پھر تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں صبر سے کام لوں گا ، اور ثواب کی امید رکھوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے اور تم صبر سے کام لو اور ثواب کی امید رکھو ، تو جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ، تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ثوری اور شعبہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ثوری اور شعبہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3837
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے انسان ! جب میں تمہاری دو محبوب چیزیں ( یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی ) لے لوں اور تم پہلے صدمے کے وقت صبر سے کام لو اور ثواب کی امید رکھو تو میں تمہارے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3838
وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَزِيزٌ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُؤْمِنٍ ثُمَّ يُدْخِلُهُ النَّارَ " قَالَ يُونُسٌ : يَعْنِي عَيْنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند و برتر ہے کہ وہ کسی مؤمن کی دو محبوب چیزوں کو لے اور پھر اسے جہنم میں داخل کرے “ یونس کہتے ہیں : اس سے مراد اس کی دونوں آنکھیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3839
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ : إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے کسی بندے کی دونوں آنکھوں کی بینائی لے لوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا“ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3840
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْ ذَهَابِ بَصَرِهِ ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِذَهَابِ بَصَرِهِ فَيَصْبِرُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندے کو کسی بھی ایسی آزمائش کا شکار نہیں کیا جاتا جو اس کے لئے کسی کو اللہ کا شریک قرار دینے سے زیادہ سخت ہو ، اور بندے کو کسی بھی ایسی چیز کے ہمراہ آزمائش کا شکار نہیں کیا جاتا جو بینائی کے رخصت ہونے سے زیادہ سخت ہو ، اور جب بھی کسی بندے کو بینائی کی رخصتی کی آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ شخص صبر سے کام لے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3841
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ابْتُلِيَ عَبْدٌ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ بِأَشَدَّ مِنْ بَصَرِهِ ، وَمَنِ ابْتُلِيَ بِبَصَرِهِ فَصَبَرَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دین کے رخصت ہو جانے کے بعد بندے کو ایسی کسی آزمائش کا شکار نہیں کیا گیا جو بینائی کی رخصتی سے زیادہ شدید ہو جس شخص کو بینائی کے حوالے سے آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے ( یعنی فوت ہونے ) تک صبر سے کام لے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اسے کوئی حساب نہیں دینا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3842
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرْوِيهِ : " إِذَا أَخَذْتُ مِنْ عَبْدَيْ كَرِيمَتَيْهِ وَهُوَ بِهِمَا ضَنِينٌ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے پروردگار سے ) روایت کرتے ہیں ( کہ پروردگار نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” جب میں اپنے کسی بندے کی دونوں آنکھوں کی بینائی لے لوں ، اور وہ اس ( بینائی ) کی خواہش رکھتا ہو تو میں اس بندے کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3843
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ : مَنْ سَلَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جس کی دونوں آنکھوں کی بینائی میں سلب کر لوں تو ان دونوں کے عوض میں ، میں اسے جنت دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3844
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ : " لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ ؟ " قَالَ : إِذَا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ قَالَ : " إِذَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " قَالَ : فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ بَصَرَهُ ثُمَّ مَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ فِي عِيَادَتِهِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَنُبَاتَةُ بِنْتُ بَرِيرِ بْنِ حَمَّادٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین
انیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ ان کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری بیماری کے حوالے سے تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، لیکن اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب تمہیں میرے بعد مزید عمر نصیب ہو گی ، اور تم نابینا ہو جاؤ گے انہوں نے عرض کی : پھر میں صبر سے کام لوں گا ، اور ثواب کی امید رکھوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تم کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی تھی پھر ان کا انتقال ہوا تھا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو ان کی عیادت کرنے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نباتہ بنت بریر بن حماد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نباتہ بنت بریر بن حماد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3845
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَذْهَبَ اللَّهُ بَصَرَهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ وَاجِبًا أَنْ لَا تَرَى عَيْنَاهُ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَوَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جس شخص کی بینائی رخصت کر دے اور وہ شخص صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہو گی کہ اس کی آنکھیں آگ ( یا جہنم ) کو نہ دیکھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب بن حفص حوانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب بن حفص حوانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3846
وَعَنْ أَبِي ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا ظِلَالٍ مَتَّى أُصِيبَ بَصَرُكَ ؟ قَالَ : لَا أَعْقِلُهُ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : يَا جِبْرَائِيلُ مَا ثَوَابُ عَبْدِي إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ إِلَّا النَّظَرُ إِلَى وَجْهِي وَالْجِوَارُ فِي دَارِي ؟ " وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكُونَ حَوْلَهُ يُرِيدُونَ أَنْ تَذْهَبَ أَبْصَارُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْرَسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَأَبُو ظِلَالٍ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ابوظلال قسملی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوظلال ! تمہاری بینائی کب رخصت ہوئی تھی انہوں نے جواب دیا : مجھے یاد نہیں ہے سیدنا انس نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل کے حوالے سے اپنے پروردگار کے حوالے سے ہمیں بیان کی تھی آپ نے بتایا تھا پروردگار نے فرمایا : ” اے جبرائیل ! میرا وہ بندہ جس کی میں نے بینائی رخصت کر دی ہو اس کا ثواب صرف میری ذات کا دیدار اور میرے پڑوس میں ٹھہرنا ہے “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ جو آپ کے ارد گرد موجود تھے وہ رونے لگے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بینائی رخصت ہو جائے ( اور اس کا یہ اجر و ثواب انہیں حاصل ہو جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشرس بن ربیع ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ابوظلال نامی راوی کو امام ابوداؤد امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ جو آپ کے ارد گرد موجود تھے وہ رونے لگے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بینائی رخصت ہو جائے ( اور اس کا یہ اجر و ثواب انہیں حاصل ہو جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشرس بن ربیع ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ابوظلال نامی راوی کو امام ابوداؤد امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3847
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَنْ مَنْ أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ” جس شخص کی بینائی میں رخصت کر دوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن صلت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد بن حنبل نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن صلت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد بن حنبل نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3848
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِذَا أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ أَثَبْتُهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب میں اپنے بندے کی دو محبوب چیزوں ( یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی ) کو رخصت کر دوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو میں ان دونوں کے عوض میں اس کے لئے جنت کو مقرر کر دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3849
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فِي الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ كَانَ صَالِحًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دنیا میں جس شخص کی بینائی رخصت ہو جائے گی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور مقرر کرے گا اگرچہ وہ نیک ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔