کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص دن میں قرآن پڑھے ، اور رات میں ( بھی قرآن پڑھتا ) رہے
حدیث نمبر: 3626
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِابْنٍ لَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ بِالنَّهَارِ وَيَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَنْقِمُ أَنَّ ابْنَكَ يُصْبِحُ ذَاكِرًا وَيَبِيتُ سَالِمًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کے آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میرا بیٹا دن کے وقت مصحف کو دیکھ کر قرآن پڑھتا رہتا ہے ، اور رات بھی ایسے گزار دیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا اعتراض ہے ؟ تمہارا بیٹا ذکر کرنے والے کے طور پر صبح کرتا ہے ، اور سلامتی والا ہونے کے طور پر رات بسر کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3626
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما 6442»