کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بلند آواز میں قرآن پڑھنا ، اسے کیسے پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 3595
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی عشاء سے پہلے ، یا اُس کے بعد بلند آواز میں قرأت کرے کہ اُس کے جو ساتھی نماز ادا کر رہے ہوں ، وہ انہیں غلطی کا شکار کر دے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند الخلفاء الراشدين مسند على بن ابي طالب رضى الله عنه حديث 654 مسند ابي يعلى الموصلي مسند على بن ابي طالب رضى الله عنه ، 475 شعب الإيمان للبيهقى فصل فى ترك التعمق فى القرآن ، 2545»
حدیث نمبر: 3596
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ قَالَ : فَبُنِيَ لَهُ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ قَالَ : فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ مِنْهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الِاعْتِكَافُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے میں اعتکاف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کے پتوں کا گھر ( یعنی حجرہ نما ) بنا دیا گیا ، ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں سے سر باہر نکالا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک نمازی شخص جب نماز ادا کر رہا ہوتا ہے ، تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ، تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ مناجات میں کیا پڑھ رہا ہے ؟ اور تم ایک دوسرے کے مقابلے میں آواز بلند نہ کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اس حدیث میں سے صرف اعتکاف کا ذکر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
حدیث نمبر: 3597
وَعَنِ الْبَيَاضِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے ، لوگ اُس وقت نماز ادا کر رہے تھے ، قرأت کرتے ہوئے اُن کی آوازیں بلند ہو چکی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نمازی ، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ، تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کیسے مناجات کر رہا ہے ؟ اور تم لوگ قرآن پڑھتے ہوئے ، ایک دوسرے کے مقابلے میں آواز بلند نہ کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3597
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3598
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ قَامَ يُصَلِّي فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ حُذَافَةَ لَا تُسْمِعْنِي وَسَمِّعْ رَبَّكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، انہوں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن حذافہ ! تم مجھے نہ سناؤ ، تم اپنے پروردگار کو سناؤ ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ ابوسلمہ سے منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3599
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ وَكَانَ عَمَّارٌ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " لِمَ تُخَافِتُ ؟ " قَالَ : إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقَالَ لِعُمَرَ : " لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ ؟ " قَالَ : أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَقَالَ لِعَمَّارٍ : " لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ ؟ " قَالَ : أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : فَكُلُّهُ طَيِّبٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ، تو آواز کو پست رکھتے تھے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ، تو وہ ایک سورت کا کچھ حصہ پڑھ لیتے تھے ، پھر دوسری سورت پڑھ لیتے تھے ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم پست آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں اس ذات تک آواز پہنچا دیتا ہوں ، جس کی بارگاہ میں ، میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم بلند آواز میں قرأت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں شیطان کو بھگاتا ہوں ، اور سوئے ہوئے کو بیدار کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم ایک سورت اور پھر دوسری سورت کیوں پڑھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : کیا آپ نے کبھی مجھے سنا کہ جو الفاظ اُس کا حصہ نہ ہوں ، میں نے وہ شامل کر دیے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر یہ سب ( سورتیں ) پاکیزہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3600
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : لِمَ تُخَافِتُ فِي قِرَاءَتِكَ ؟ قَالَ : إِنِّي أُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقِيلَ لِعُمَرَ : لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ ؟ قَالَ : أُوقِظُ الْوَسْنَانَ ، وَقِيلَ لِرَجُلٍ آخَرَ : لِمَ تَخْلِطُ فِي قِرَاءَتِكَ ؟ قَالَ : تَسْمَعُنِي أَزِيدُ فِيهِ مَا لَيْسَ فِيهِ ؟ قَالَ : لَا قَالَ : فَإِنَّهُ طَيِّبٌ أَخْلِطُ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ پست آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اُس ذات کو سنا دیتا ہوں ، جس سے میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ بلند آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں سوئے ہوئے کو بیدار کرتا ہوں ، ایک اور صاحب سے دریافت کیا گیا : آپ اپنی تلاوت ( میں مختلف سورتوں کو ) ملا کیوں دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے مجھے سنا ہے ؟ کہ میں نے اس میں کوئی ایسا اضافہ کیا ہو ؟ جو اس میں نہ ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو انہوں نے جواب دیا : یہ پاکیزہ چیزیں ہیں ، جنہیں میں ایک دوسرے میں ملا دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور عمرو بن علی کو ، علی بن مدینی اور یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3601
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ اطَّلَعَ فِي بَيْتٍ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ مِنْ سُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں سے جھانک کر دیکھا ، لوگ بلند آواز میں تلاوت کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نمازی ، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ، تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کیسے مناجات کر رہا ہے ؟ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند آواز میں تلاوت نہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3602
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ ، وَإِنَّ الَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا : بَشِيرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي الْأُخْرَى : إِسْحَاقُ بْنُ مَالِكٍ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص بلند آواز میں قرآن پڑھتا ہے ، وہ گویا ظاہر کر کے صدقہ دیتا ہے ، اور جو شخص پست آواز میں قرآن پڑھتا ہے ، وہ گویا پوشیدہ طور پر صدقہ دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی بشیر بن نمیر ہے ، اور وہ متروک ہے ، دوسری سند میں ایک راوی اسحاق بن مالک ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3602
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ما اسند ابو امامة القاسم بن عبد الرحمن بن يزيد الشامى مولى معاوية ، 7601»
حدیث نمبر: 3603
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ بِاللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي بِصَلَاتِهِ وَتَسْمَعُ لِقِرَاءَتِهِ ، وَإِنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي الْهَوَاءِ وَجِيرَانَهُ مَعَهُ فِي مَسْكَنِهِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَسْتَمِعُونَ قِرَاءَتَهُ وَإِنَّهُ يَطْرُدُ بِجَهْرِهِ بِقِرَاءَتِهِ عَنْ دَارِهِ وَعَنِ الدُّورِ الَّتِي حَوْلَهُ فُسَّاقَ الْجِنِّ وَمَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي بَابٍ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْكَلَامِ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے جو شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرے ، اُسے بلند آواز میں تلاوت کرنی چاہیے ، کیونکہ فرشتے اس کی پیروی میں نماز ادا کرتے ہیں ، اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں ، اور جنات سے تعلق رکھنے والے مؤمنین ، جو کھلی جگہ پر رہتے ہیں اور اس شخص کے گھر میں اُس کے ساتھ پڑوسی کے طور پر رہتے ہیں ، وہ بھی اُس شخص کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں ، اور اُس کی تلاوت کو سنتے ہیں ، ایسا شخص بلند آواز میں قرأت کر کے اپنے گھر سے ، اور اپنے آس پاس موجود گھروں سے فاسق جنوں اور مردود شیاطین کو دور کر دیتا ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ حدیث اس سے پہلے طویل روایت کے طور پر ، رات کے وقت نماز ادا کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور وہاں اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الهيثمي:"رواه الطبراني في الكبير، وفيه إسماعيل بن عياش، وحديثه عن غير أهل بلده ضعيف، وهذا منه (2/272)
حدیث نمبر: 3604
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدَّ ، لَيْسَ فِيهَا تَرْجِيعٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَجِيهٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت لمبی ہوتی تھی ، اُس میں ترجیع نہیں ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن وجیہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3605
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : بِتُّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةً فَقَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَكَانَ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ فِي مَسْجِدِ حَيِّهِ ، يُرَتِّلُ وَلَا يُرَجِّعُ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ وَلَا يُرَجِّعُ صَوْتَهُ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنَ الْغَلَسِ إِلَّا كَمَا بَيْنَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا ثُمَّ أَوْتَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزاری ، وہ رات کے ابتدائی حصے میں کھڑے ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، وہ اپنے محلے کی مسجد کے امام کی تلاوت کی پیروی کر رہے تھے ، وہ ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے ، ترجیع کے ساتھ نہیں پڑھ رہے تھے ، اپنے آس پاس موجود افراد تک اُن کی آواز جا رہی تھی ، اور وہ اپنی آواز میں ترجیع نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ جب صبح ہونے میں اتنی دیر رہ گئی ، جتنا مغرب کی اذان سے لے کے نماز سے فارغ ہونے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ، تو انہوں نے وتر ادا کر لیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3606
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمْ يُخَافِتْ مَنْ أَسْمَعَ أُذُنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اپنے کانوں کو سناتا ہے ، وہ پست آواز میں تلاوت کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح