حدیث نمبر: 3593
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مَنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ، اور نماز کا آغاز کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ، تو تکبیر کے بعد یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے ، تیری بزرگی بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ اُس کے بعد آپ تین مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھتے تھے ، اور پھر یہ پڑھتے تھے : ” میں سننے والے اور علم رکھنے والے ، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، مردود شیطان سے ، اس کے ٹھونگا مارنے ، پھونک مارنے ، لعاب ڈالنے سے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3594
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثَلَاثًا وَسَبَّحَ ثَلَاثًا وَهَلَّلَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مَنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَشِرْكِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنا شروع کرتے تھے ، تو تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے ، تین مرتبہ «سبحان الله» کہتے تھے ، تین مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھتے تھے ، پھر یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! بے شک میں ، مردود شیطان سے ، اُس کے ٹھونگا مارنے ، پھونک مارنے اور شریک ہونے سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔