کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: وتر میں آدمی کیا پڑھے گا ؟
❮
❯
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَفِي الثَّالِثَةِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَعْدَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں ، پہلی رکعت میں سورت الاعلی کی ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ولید بن معدان ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3464
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10250، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2867، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 1725، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 4759، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1744»
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَ تُوتِرُ ؟ قَالَ : " بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ وتر میں کیا تلاوت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سورت الاعلیٰ ، سورت الکافرون ، اور سورت الاخلاص ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8794»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْوِتْرِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ وتر کی پہلی رکعت میں سورت الاعلی ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون ، اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص اور معوذتین کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3466
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8834، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2448، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 2686»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : آپ وتر میں سورت الاعلی ، سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ وتر میں سورت الاعلی ، سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سورت الکافرون اور سورت اخلاص کا ذکر نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَبْرَةَ - يَعْنِي أَبَا خَيْثَمَةَ - أَنَّ أَبَاهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ قَالَ : " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي الْأُولَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي الثَّالِثَةِ " .
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَزِينٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن سبرہ ، یعنی ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : وتر میں کیا پڑھا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلی رکعت میں سورت الاعلیٰ ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون ، اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص ( تلاوت کی جائے ) ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رزین ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ازدی بیان کرتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3469
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف