حدیث نمبر: 3464
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَفِي الثَّالِثَةِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَعْدَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں ، پہلی رکعت میں سورت الاعلی کی ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ولید بن معدان ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ولید بن معدان ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3465
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَ تُوتِرُ ؟ قَالَ : " بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ وتر میں کیا تلاوت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سورت الاعلیٰ ، سورت الکافرون ، اور سورت الاخلاص ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3466
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْوِتْرِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ وتر کی پہلی رکعت میں سورت الاعلی ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون ، اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص اور معوذتین کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3467
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : آپ وتر میں سورت الاعلی ، سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3468
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ وتر میں سورت الاعلی ، سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سورت الکافرون اور سورت اخلاص کا ذکر نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سورت الکافرون اور سورت اخلاص کا ذکر نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3469
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَبْرَةَ - يَعْنِي أَبَا خَيْثَمَةَ - أَنَّ أَبَاهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ قَالَ : " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي الْأُولَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي الثَّالِثَةِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَزِينٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن سبرہ ، یعنی ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : وتر میں کیا پڑھا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلی رکعت میں سورت الاعلیٰ ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون ، اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص ( تلاوت کی جائے ) ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رزین ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ازدی بیان کرتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رزین ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ازدی بیان کرتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔