عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ فِي الْآجَامِ فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ إِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ إِلَّا مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جمعہ ادا کیا کرتے تھے پھر جب ہم واپس آتے تھے تو ہم سایہ میں آنے کی کوشش کرتے تھے ہمیں کوئی سایہ نہیں ملتا تھا صرف اتنی جگہ ملتی تھی کہ جو ہمارے قدموں پر سایہ کر سکے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہمیں سایہ نہیں ملتا تھا صرف اپنے قدموں کی جگہ ملتی تھی ( جس پر سایہ ہوتا تھا )
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ فَرَآهُ مِثْلَ الشِّرَاكِ فَقَالَ : إِنْ يَصِبْ أَحَدُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ الْآنَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَقُولُ : الصَّلَاةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم جمعہ کے دن ان کے ساتھ مسجد کوفہ میں موجود تھے ۔ سیدنا عمار بن یاسر کوفہ کے امیر تھے جنہیں سیدنا عمر بن خطاب نے مقرر کیا تھا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال کے نگران تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سایہ کی طرف دیکھا تو وہ تسمے جتنا ہو چکا تھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے ، تو اسے اس وقت ( نماز جعہ کی ادائیگی کے لیے ) نکل جانا چاہیے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ابھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران سیدنا عمار بن یاسر تشریف لے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ نماز ہونے والی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ حَنْظَلَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جعہ کی نماز ادا کرتے تھے پھر ہم واپس جاتے تھے تو ہمیں دیواروں کے سائے نہیں ملتے تھے کہ جس کے سائے میں ہم آ سکیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن حنظلہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ إِذَا قَعَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ تسے جتنا ہو جاتا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو جاتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جمعہ ادا کرتے تھے پھر ہم واپس آ کر قیلولہ کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الْجُمُعَةُ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعَّفَهُ ابْنُ خِرَاشٍ ، وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ صَاعِدٍ ، وَكَانَ يُفَخِّمُ أَمْرَهُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ [ وَقَالَ : يُخْطِئُ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : جب سورج ڈھل جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے پھر جب ہم واپس آتے تھے تو ہمیں سایہ نہیں ملتا تھا جس کے سائے میں ہم آ سکیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان ہے ، جسے ابن خراش نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن صاعد نے اس سے روایت نقل کی ہے : وہ اس کے معاملے کو بڑا کرتے تھے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ تعالیٰ کی اقتداء میں جمعہ ادا کرتے تھے پھر واپس آ کے قیلولہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔