مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کا وقت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ فَرَآهُ مِثْلَ الشِّرَاكِ فَقَالَ : إِنْ يَصِبْ أَحَدُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ الْآنَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَقُولُ : الصَّلَاةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم جمعہ کے دن ان کے ساتھ مسجد کوفہ میں موجود تھے ۔ سیدنا عمار بن یاسر کوفہ کے امیر تھے جنہیں سیدنا عمر بن خطاب نے مقرر کیا تھا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال کے نگران تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سایہ کی طرف دیکھا تو وہ تسمے جتنا ہو چکا تھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے ، تو اسے اس وقت ( نماز جعہ کی ادائیگی کے لیے ) نکل جانا چاہیے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ابھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران سیدنا عمار بن یاسر تشریف لے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ نماز ہونے والی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔