کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص صف مکمل ہو جانے کے بعد آئے ، وہ کیا کرے ؟
حدیث نمبر: 2537
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّفِّ وَقَدْ تَمَّ فَلْيَجْبِذْ إِلَيْهِ رَجُلًا يُقِيمُهُ إِلَى جَنْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص صف تک پہنچے اور وہ مکمل ہو چکی ہو ، تو وہ ( اس صف میں سے ) ایک شخص کو اپنی طرف کھینچ لے اور اسے اپنے پہلو میں کھڑا کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً۔
حدیث نمبر: 2538
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلٌ يُصَلِّي خَلْفَ الْقَوْمِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ أَلَا تَكُونُ وَصَلْتَ صَفًّا فَدَخَلْتَ مَعَهُمْ أَوِ اجْتَرَرْتَ إِلَيْكَ رَجُلًا إِنْ ضَاقَ بِكُمُ الْمَكَانُ أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لَكَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِيمَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصه بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں کے پیچھے ( صف میں اکیلا کھڑے ہو کر ) نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اکیلے نماز ادا کرنے والے شخص ! تم صف تک پہنچ کر لوگوں کے ساتھ شامل کیوں نہیں ہوئے اور اگر تمہارے لئے جگہ تنگ تھی تو تم نے کسی شخص کو کھینچ کر اپنی طرف کر لینا تھا اب تم اپنی نماز کو دہراؤ کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، ان کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو صف کے پیچھے ( اکیلا کھڑا ہو کر ) نماز ادا کرتا ہے وہ حدیث تینوں ” سنن “ میں نقل کی گئی ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف