عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعِ خِصَالٍ : جُعِلْتُ أَنَا وَأُمَّتِي فِي الصَّلَاةِ كَمَا تَصِفُّ الْمَلَائِكَةُ، وَجُعِلَ الصَّعِيدُ لِي وَضُوءًا، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے چار چیزوں کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے مجھے اور میری امت کو نماز میں اس طرح مقرر کیا گیا ہے ، جس طرح فرشتے صف بناتے ہیں میرے لئے زمین کو وضو کا ذریعہ بنایا گیا ہے میرے لئے زمین کو جائے نماز بنایا گیا ہے ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَفُّوا كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؟ قَالَ : " يُقِيمُونَ الصُّفُوفَ وَيَجْمَعُونَ مَنَاكِبَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ اس طرح صف بناؤ جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں صف بناتے ہیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیسے صف بناتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ صف سیدھی رکھتے ہیں ، اور کندھے ملا کے رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَوِّي مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( شروع ہونے سے پہلے ) ہمارے کندھے برابر کرواتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند متصل ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوُوا تَسْتَوِي قُلُوبُكُمْ وَتَمَاسُّوا تَرَاحَمُوا " . ¤ قَالَ شُرَيْحٌ : تَمَاسُّوا يَعْنِي : ازْدَحِمُوا فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ غَيْرُهُ : تَمَاسُّوا : تَوَاصَلُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ سیدھے رہو تمہارے دل سیدھے رہیں گے تم لوگ ایک دوسرے سے مل کے رہو اور ایک دوسرے پر رحم کرو “ ۔ قاضی شریح بیان کرتے ہیں : لفظ ” تماسوا “ سے مراد یہ ہے کہ نماز کے دوران ہجوم کرو دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے : لفظ ” تماسوا “ کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے سے مل کے رہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَتَخَلَّلُهَا كَالْحَذَفِ أَوْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ شیطان ان کے درمیان یوں آ جاتا ہے جیسے وہ چھوٹی ( یعنی ٹیڈی ) بکری ہو یا چھوٹی بکری کی اولاد ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح (موقوفاً)
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبد الله بن مسعود الهذلي باب 9229»