کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایسے شخص کا نماز ادا کرنا جس نے پیشاب یا پاخانہ کو روکا ہوا ہو
حدیث نمبر: 2487
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ رِزًّا فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کسی شخص کو نماز کے دوران گڑ بڑ محسوس ہو ، تو وہ نماز ختم کرے اور وضو کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2488
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يَجِدُ مِنَ الْأَذَى شَيْئًا - يَعْنِي الْغَائِطَ وَالْبَوْلَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کوئی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ وہ گندگی میں سے کوئی چیز محسوس کر رہا ہو ( راوی کہتے ہیں : یعنی اسے پاخانہ یا پیشاب آ رہا ہو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2489
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصَلِّي وَهُوَ يَجِدُ مِنَ الْأَذَى شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : أَبُو مَعْشَرٍ السِّنْدِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ قَوْمٌ كَثِيرُونَ وَوَثَّقَهُ آخَرُونَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ بَعْضُهَا فِي بَابِ الْإِمَامِ يَذْكُرُ أَنَّهُ مُحَدِّثٌ وَبَعْضُهَا فِي الطَّهَارَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا نہیں کرتے تھے جب آپ کو اذیٰ ( یعنی پیشاب یا پاخانہ ) میں سے کوئی چیز محسوس ہو رہی ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر سندی ہے ، جسے بہت سے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث اس سے پہلے گزر چکی ہیں جن میں یہ ذکر ہوا ہے کہ جب امام کو یہ بات یاد آئے کہ وہ بے وضو ہے ، اسی طرح کچھ روایات طہارت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2490
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ حَاقِنًا حَتَّى يَتَخَفَّفَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الِاسْتِئْذَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَدْ رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ وَفِيهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَخُصَّ الْإِمَامُ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ ایسی حالت میں نماز میں شریک نہ ہو کہ وہ پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو جب تک وہ اس حوالے سے ہلکا پھلکا نہیں ہو جاتا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ پوری روایت اجازت مانگنے کے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے ، اور ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا لیکن ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے ایک حدیث گزر چکی ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے وہ اس باب میں ہے ، جس میں اس بات کی ممانعت ہے کہ امام اپنی ذات کو دعا کے لئے مخصوص کرے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔