حدیث نمبر: 2440
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَشْرُ وَلَكِنْ يَقْطَعُهَا الْقَهْقَهَةُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسکرانا نماز کو نہیں توڑتا ہے قہقہہ اسے توڑ دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ” مرفوع “ اور ” موقوف “ روایت کے طور ( یعنی دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ” مرفوع “ اور ” موقوف “ روایت کے طور ( یعنی دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2441
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَصْرَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبَسَّمْتَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : "مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ الْغُبَارُ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر رہے تھے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ نماز کے دوران مسکرا دیے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میکائیل میرے پاس سے گزرے تھے ان کے ” پر “ پر “ غبار لگا ہوا تھا وہ مجھے دیکھ کے ہنس پڑے تو میں انہیں دیکھ کے مسکرا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2442
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ رِئَابٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَرَّ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَنَا أُصَلِّي فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَازِعُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن رکاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل علیہ السلام میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑے اور میں انہیں دیکھ کر مسکرا دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2443
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَتَرَدَّى فِي حُفْرَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ فِي بَصَرِهِ ضَرَرٌ فَضْحِكَ كَثِيرٌ مِنَ الْقَوْمِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَيُعِيدَ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران ایک شخص ( مسجد میں ) داخل ہوا اور وہ گڑھے میں گر گیا جو مسجد میں موجود تھا اس شخص کی بینائی کمزور تھی تو حاضرین میں سے بہت سے لوگ ہنس پڑے جب کہ وہ نماز ادا کر رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جو شخص ہنس پڑا تھا وہ وضو کو دہرائے اور نماز کو دہرائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2444
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَضْحَكُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ : يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو نماز کے دوران ہنس پڑتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ نماز کو دہرائے گا وہ وضو کو نہیں دہرائے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔