حدیث نمبر: 2270
عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا ؟ قَالَتْ : لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
قاضی شریح کے بارے میں بات منقول ہے : انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز ادا کر لیتے تھے ؟ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات سنی ہے ” اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے حصیر بنایا ہے ( اور عربی میں چٹائی کے لئے لفظ حصیر استعمال ہوتا ہے ) تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز ادا نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2271
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى لَا يَضَعُ تَحْتَ قَدَمَيْهِ شَيْئًا ، إِلَّا أَنَّا مُطِرْنَا يَوْمًا فَوَضَعَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ نِطْعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو آپ اپنے پاؤں کے نیچے کچھ نہیں رکھتے تھے البتہ ایک مرتبہ بارش ہو گئی ، تو آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 2272
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يُصَلِّي أَوْ لَا يَسْجُدُ إِلَّا عَلَى الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف زمین پر نماز ادا کرتے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) صرف زمین پر سجدہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
حدیث نمبر: 2273
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ عَلَى الْبَرَدَى وَيَسْجُدُ عَلَى الْأَرْضِ ، قُلْنَا : وَمَا الْبَرَدَى ؟ قَالَ : الْحَصِيرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ” بردی “ پر کھڑے ہوئے تھے ، اور زمین پر سجدہ کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے دریافت کیا : لفظ بردی سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا : چٹائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔