کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسجد میں پچھنے لگانا ( یا لگوانا )
حدیث نمبر: 2018
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ فِي الْمَسْجِدِ قُلْتُ لِابْنِ عُيَيْنَةَ : فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ ؟ قَالَ : لَا، فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَذَكَرَ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِ التَّمْيِيزِ : أَنَّ ابْنَ لَهِيعَةَ أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ : احْتَجَمَ بِالْمِيمِ وَإِنَّمَا هُوَ احْتَجَرَ أَيِ : اتَّخَذَ حُجْرَةً وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پچھنے لگوائے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابن عیینہ سے دریافت کیا : اس سے مراد آپ کے گھر میں موجود نماز کی مخصوص جگہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام مسلم نے کتاب ” التمیز “ میں یہ بات ذکر کی ہے ۔ ابن لہیعہ غلطی کرتا ہے ، جب وہ لفظ ” احتجم “ نقل کرتا ہے ، جسے میم کے ساتھ روایت کرتا ہے حالانکہ اصل لفظ ہے : ” احتجر “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ بنا لیا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف