کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا
حدیث نمبر: 1884
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مؤذن اذان دیتا ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1885
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ; فَادْعُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلِهِ : " فَادْعُوا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " مُسْتَجَابٌ " . وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا مسترد نہیں ہوتی ہے ، تو تم لوگ ( اس مخصوص وقت میں ) دعا کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تم لوگ دعا کرو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلی نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” مستجاب ہوتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں بھی یزید رقاشی نامی راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف (اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اصل مضمون ثابت ہے)۔
حدیث نمبر: 1886
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّوْحَاءِ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَ التَّأْذِينِ ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے ، تو شیطان پیٹھ پھیر کر روحاء تک چلا جاتا ہے جہاں اسے اذان کی آواز سنائی نہ دے ( جب اذان ہوتی ہے ) تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور دعا مستجاب ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جسے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف