کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سردی کی شدت کی وجہ سے تیمم کرنا
حدیث نمبر: 1424
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَهُوَ أَمِيرُ الْجَيْشِ ، فَتَرَكَ الْغُسْلَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ قَالَ : إِنِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ مِنَ الْبَرْدِ ، فَصَلَّى بِمَنْ مَعَهُ جُنُبًا ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَّفَهُ مَا فَعَلَ ، فَأَنْبَأَهُ بِعُذْرِهِ ، فَأَقَرَّ وَسَكَتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ جنابت لاحق ہو گئی ، وہ لشکر کے امیر تھے ، انہوں نے اس وجہ سے غسل ترک کر دیا کہ انہوں نے یہ سوچا : کہ اگر میں نے غسل کیا ، تو سردی کی وجہ سے مر جاؤں گا ، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے طرز عمل کے بارے میں بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اندیشے سے آگاہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا اور خاموشی اختیار کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس روایت کو ابوبکر بن عبدالرحمن انصاری نے سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1424
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1425
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، [ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ] فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَنِي الْبَرْدُ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات بھی ذکر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ سردی مجھے مار ڈالے گی ، اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے رحم کرنے والا ہے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات پر خاموش رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع