حدیث نمبر: 1147
عَنْ أَبِي الْجَنُوبِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ : مَهْ يَا أَبَا الْجَنُوبِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ عُمَرَ يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ ، فَقَالَ : مَهْ يَا أَبَا الْحَسَنِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ : " مَهْ يَا عُمَرُ ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُشْرِكَنِي فِي طَهُورِي أَحَدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو الْجَنُوبِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجنوب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی لیا ، میں لپک کر ان کی طرف گیا ، تاکہ انہیں وضو کروا دوں ، تو انہوں نے فرمایا : اے ابوجنوب ! رک جاؤ ! ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کے لیے پانی لیا ، میں انہیں وضو کروانے کے لیے آگے ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے ابوالحسن ! رک جاؤ ! ( انہوں نے یہ بتایا : ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے ہیں ، میں آپ کو وضو کروانے کے لیے آگے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمر ! رک جاؤ ، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں ، کہ میرے وضو میں کوئی میرا شریک ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1148
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ لِلْمَغِيبِ وَمَعِي كُوزٌ مِنْ مَاءٍ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ وَقَعَدْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ ، فَوَضَّأْتُهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس وقت نکلا ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، یا غروب ہونے کے قریب تھا ، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، میں آپ کے انتظار میں رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔