کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا
حدیث نمبر: 1008
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتَ رَسُولٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ، وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ : لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ ، وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اہل مکہ کی طرف پیغام رساں ہو ! تم یہ بتا دینا : بے شک اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام کہا: ہے ، اور تمہیں تین باتوں کا حکم دیا ہے ، تم لوگ غیر اللہ کے نام پر حلف نہ اٹھانا ، جب تم قضائے حاجت کرو ، تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرنا اور پیٹھ نہ کرنا ، اور تم ہڈی کے ذریعے ، یا مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1009
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پیشاب ، یا پاخانہ کرتے ہوئے ، دونوں قبلوں ( میں سے کسی ) کی طرف رخ کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1010
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْعَجْلَانِيَّ حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُسْتَقْبَلَ شَيْءٌ مِنَ الْقِبْلَتَيْنِ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن عمرو عجلانی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے ( یا شاید ان کے ) والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پیشاب ، یا پاخانہ کرتے ہوئے ، دونوں کے قبلوں میں سے کسی کی طرف رخ کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1011
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے ، تو وہ قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ محمد بن عمر الواقدی۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه سهل ومما اسند سهل بن سعد العباس بن سهل بن سعد عن ابيه 5600»
حدیث نمبر: 1012
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى النَّسْخِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اور میں نے لوگوں کو اس بارے میں سب سے پہلے بیان کیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : کہ یہ صحابی وہ پہلے شخص ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز سے منع کرتے ہوئے سنا ، تو یہ چیز اس کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1013
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ بَعْدَ النَّهْيِ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( قبلہ کی طرف رخ کر کے ) پاخانہ یا پیشاب کرنے کی ممانعت کے بعد ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کر کے ( پیشاب کرتے ہوئے ) دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1014
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَمْ يَسْتَدْبِرْهَا فِي الْغَائِطِ - كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمُحِيَ عَنْهُ سَيِّئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ وَشَيْخَ شَيْخِهِ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہیں کرتا اور پیٹھ نہیں کرتا ، اُس کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد اور ان کے استاد کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الألف من اسمه احمد 1332»