کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس بارے میں اور قضائے حاجت کے آداب کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 1004
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَ قَوْمَهُ وَعَلَّمَهُمْ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَوْمًا وَهُوَ كَأَنَّهُ يَلْعَبُ : مَا بَقِيَ لِسُرَاقَةَ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ التَّغَوُّطُ . قَالَ سُرَاقَةُ : إِذَا ذَهَبْتُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَاتَّقُوا الْمَجَالِسَ عَلَى الظِّلِّ وَالطَّرَائِقِ ، خُذُوا النَّبَلَ ، وَاسْتَنْشِبُوا عَلَى سُوقِكُمْ ، وَاسْتَجْمِرُوا ، وَأَوْتِرُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ( اپنے علاقے میں واپس ) تشریف لائے ، تو انہوں نے اپنی قوم کو باتیں بتائیں ، اور انہیں ( شرعی احکام کی ) تعلیم دی ، ایک دن ایک شخص نے اُن کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا: سراقہ کا اب بس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہیں یہ تعلیم دے کہ پاخانہ کیسے کرنا ہے ؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ، تو سائے ، یا راستے میں بیٹھنے سے بچو ، پھر استعمال کرو اور طاق تعداد میں استعمال کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1005
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ . قَالَ : إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا - وَأَحْسَبُهُ قَالَ : - وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کے بارے میں ، میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے ، کہ قضائے حاجت کے لیے تم نے کیسے جانا ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم مذاق اُڑا رہے ہو ( تو میں تمہیں بتاتا ہوں ) انہوں نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم نے اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں کرنا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا اور ہم نے اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا ہے اور ہم نے مینگنی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ، اور ہم نے ہڈی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ، اور ہم نے تین سے کم پتھروں کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔