کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کس جگہ قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 997
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اتَّقَوُا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ " . قِيلَ : مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ ، أَوْ فِي طَرِيقٍ ، أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لعنت کا باعث بننے والی تین جگہوں سے بچ کے رہو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! لعنت کا باعث بننے والی جگہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس سائے میں بیٹھا جاتا ہے ، اس جگہ تم میں سے کوئی ایک بیٹھ کر ( قضائے حاجت کرے ) یا راستے میں کرے یا پانی پھوٹنے کی جگہ پر کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ( جو ضعیف ہے ) اور ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب 2635»
حدیث نمبر: 998
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے ، کہ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 999
وَعَنْ بَكْرِ بْنِ مَاعِزٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُنْقَعُ بَوْلٌ فِي طَسْتٍ فِي الْبَيْتِ ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ بَوْلٌ مُنْتَقَعٌ ، وَلَا تَبُولَنَّ فِي مُغْتَسَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
بکر بن ماعز بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے : ” گھر میں کسی برتن میں پیشاب نہ کیا جائے ، کیونکہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں ، جس میں برتن میں پیشاب پڑا ہو ، اور تم اپنے غسل کی جگہ پر ہرگز پیشاب نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1000
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَخَلَّى الرَّجُلُ تَحْتَ شَجَرَةٍ مُثْمِرَةٍ ، وَنَهَى أَنْ يَتَخَلَّى عَلَى ضَفَّةِ نَهْرٍ جَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الْكَبِيرِ الشَّطْرُ الْأَخِيرُ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی پھل دار درخت کے نیچے قضائے حاجت کرے ، آپ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ بہتی ہوئی نہر کے کنارے پر قضائے حاجت کی جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں اس کا آخری نصف حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «المعجم الأوسط للطبراني باب الالف باب من اسمه إبراهيم 2432»
حدیث نمبر: 1001
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعَنَتُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مسلمانوں کو اُن کے راستے میں اذیت پہنچائے ( یعنی اُن کے راستے میں قضائے حاجت کر دے ) تو ایسے شخص پر ان لوگوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1002
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ ، يُوشِكُ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ : " اتَّقَوُا اللَّعَّانِينَ " - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہر چیز کے بارے میں ہمیں حکم بیان کر دیا ہے ، قریب ہے کہ آپ ہمیں قضائے حاجت کے بارے میں بھی کوئی حکم بیان کر دیں گے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے کسی راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے ، اُس پر ، اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہیں : ” لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو ! “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو انصاری ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لِشواھدہ
حدیث نمبر: 1003
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ ; لِأَنَّ الْوَسْوَاسَ يَعْرِضُ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آدمی کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ اپنے غسل کی جگہ پر پیشاب کرے ، کیونکہ اس طرح اُسے وسوسے لاحق ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف