کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان، جو غیر اللہ کے لئے علم حاصل کرتا ہے
حدیث نمبر: 864
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ - فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ : تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ : وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ ، وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ : لَا نَدْرِي مَنْ ذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : “” “” جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا اُس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، اور لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لے ، تو وہ شخص جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن زیاد واسطی ہے ، امام طبرانی اور امام بزار فرماتے ہیں : سلیمان اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے “” “” میزان “” “” کے مصنف فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن زیاد واسطی ہے ، امام طبرانی اور امام بزار فرماتے ہیں : سلیمان اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے “” “” میزان “” “” کے مصنف فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے ؟
حدیث نمبر: 865
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ - فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا اُس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، تو وہ جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 866
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ فِي الْمَجَالِسِ - لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اس کے ذریعے محافل میں علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، تو وہ شخص جنت کی خوشبو نہیں پائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 867
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ : يَا بُنَيَّ ، لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ كَمَا تَرَى . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : حکیم لقمان نے یہ کہا: تھا : ” اے میرے بیٹے ! تم علم اس لیے حاصل نہ کرنا کہ تم اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو ، یا اس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرو ، یا اُس کے ذریعے محافل میں دکھاوا کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔