کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: علم حدیث کے ماہرین کا صحیح اور ضعیف حدیث کی معرفت رکھنا
حدیث نمبر: 667
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ ، وَأَبْشَارُكُمْ ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ - فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ ، وَتَنْفِرُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ - فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میرے حوالے سے کوئی حدیث سنو ، جس سے تمہارے دل ( یعنی ذہن ) مانوس ہوں ، جس کے لیے تمہارے بال اور تمہاری جلد نرم ہو جائے اور تم یہ سمجھو کہ وہ بات تم سے قریب ہے ، تو اس بات کے حوالے سے میں تم سے زیادہ حق رکھتا ہوؤں گا ، اور جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو ، جسے تمہارے دل منکر قرار دیں ، تمہارے بال اور تمہاری جلد اُس سے متنفر ہو اور تم یہ سمجھو کہ یہ تم سے بعید ہے ، تو اُس بات سے میں تم سب سے زیادہ دور ہوؤں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 668
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " إِذَا حَدَّثْتُمْ عَنِّي حَدِيثًا ، فَوَافَقَ الْحَقَّ - فَأَنَا قُلْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ حق کے مطابق ہو ، تو وہ بات میں نے ہی کہی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔