کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی
حدیث نمبر: 402
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُفُّوا عَنْ أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، لَا تُكَفِّرُوهُمْ بِذَنْبٍ ، فَمَنْ كَفَّرَ أَهْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ إِلَى الْكُفْرِ أَقْرَبُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”« لا اله الا الله» پڑھنے والوں سے رکے رہو ! اور کسی گناہ کی وجہ سے انہیں کافر قرار نہ دو ! جو شخص «لا اله الا الله» پڑھنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے وہ خود کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ضحاک بن حمران نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13089»
حدیث نمبر: 403
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَمْ يُمَارُوا فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ . ¤ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، كَذَّبَهُ يَحْيَى وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت ایک دینی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو اُس وقت ٹھیک رہیں ، جب دوسرے لوگ خرابی کا شکار ہو جائیں ، اور وہ لوگ ، اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتے ہیں ، تم لوگ کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ، اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ مکمل روایت آگے چل کر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے ، جسے یحیی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 403
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 404
وَعَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى ثَلَاثَةٍ : أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا تُكَفِّرُوهُمْ بِذَنْبٍ وَلَا تَشْهَدُوا عَلَيْهِمْ بِشِرْكٍ ، وَمَعْرِفَةُ الْمَقَادِيرِ خَيْرِهَا وَشَرِّهَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مُذْ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى آخِرِ عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، لَا يَنْقُضُ ذَلِكَ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام کی بنیاد ، تین چیزوں پر ہے ، «لا اله الا الله» پڑھنے والے لوگوں کی ، تم کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو ! اور نہ ہی اُن کے خلاف شرک کی گواہی دو ! اور تقدیر کی معرفت ، کہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی ، اور جہاد ، قیامت تک جاری رہے گا ، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ، اُس وقت سے لے کر ، مسلمانوں کے آخری گروہ تک ( یہ جاری رہے گا ) کسی ظالم کا ظلم ، یا عادل کا عدل ، اسے ختم نہیں کر سکے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 404
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4775»
حدیث نمبر: 405
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَنْ يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا بِجُحُودِ مَا دَخَلَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ كَمَا تَقَدَّمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کوئی بھی شخص ، ایمان سے صرف اُس صورت میں خارج ہو گا ، جب وہ اس چیز کا انکار کر دے ، جس میں وہ داخل ہوا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ احادیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ، جیسا کہ یہ بات پہلے گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 405
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4433»
حدیث نمبر: 406
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُكَّفِرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ ، وَإِنْ عَمِلُوا بِالْكَبَائِرِ ، وَصَلُّوا مَعَ كُلِّ إِمَامٍ ، وَجَاهَدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل قبلہ میں سے ، کسی کی ، کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو ! خواہ وہ ( لوگ ) کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوں اور ہر امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اور ہر امیر کے ساتھ جہاد کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے اور وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 406
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف،
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 2844»
حدیث نمبر: 407
وَعَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ نَاسًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنَا بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ ، قَالَ أَنَسٌ : أُولَئِكَ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ، وَقَالَ : عِنْدَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
یزید رقاشی ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے کہا: اے ابوحمزہ ! کچھ لوگ ہمارے خلاف کفر اور شرک کی گواہی دیتے ہیں ، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ خلق اور خلیفہ کے بدترین لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابو أحمد بن عدی نے اُسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صالح روایات نقل کی ہیں ، اور مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 407
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 4085 أورده المؤلف فى المقصد العلى 52»
حدیث نمبر: 408
وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا وَهُوَ مُجَاوِرٌ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي بَنِي فِهْرٍ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مُشْرِكًا ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ . قَالَ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْهُمْ كَافِرًا ؟ قَالَ : لَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسفیان بیان کرتے ہیں : میں نے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : جو اُس وقت مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ، اُنہوں نے بنو فہر کے ہاں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، ایک شخص نے اُن سے سوال کیا : کیا آپ لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو مشرک قرار دیتے تھے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ، وہ ( یعنی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ) اس بات سے خوف زدہ ہو گئے ، اُس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ان ( یعنی اہل قبلہ ) میں سے ، کسی کو کافر قرار دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 408
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده ، 2311 اورده المؤلف فى المقصد العلى 1737»