کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کبیرہ گناہوں کا بیان
حدیث نمبر: 379
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 379
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 380
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ; فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ - . وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَبَهْتُ مُؤْمِنٍ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَيَمِينٌ فَاجِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایسی حالت میں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، کہ وہ کسی کو اُس کا شریک قرار نہ دیتا ہو ، اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہو ، وہ اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو ، تو اُسے جنت نصیب ہو گی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور پانچ کام ایسے ہیں ، جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ، کسی کو ناحق طور پر قتل کرنا ، مؤمن پر بہتان لگانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا ، جس کے ذریعے آدمی ناحق طور پر کسی کا مال ہتھیا لے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جو تدریس کرنے والا ہے اور اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 142»
حدیث نمبر: 381
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَسُبُّ وَالِدَيْهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو غیر اللہ کے نام پر ( جانور کو ) ذبح کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو زمین کے نشانات کو تبدیل کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو کسی نابینا کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو اپنے ماں باپ کو برا کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ، جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے ، کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرتا ہے “ ۔
یہی روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 381
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 108/1118152309317 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11546 ، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2521 ، 2539 اورده المؤلف فى زوائد المسند 138»
حدیث نمبر: 382
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَبَائِرُ : أَوَّلُهُنَّ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقِّهَا ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَفِرَارُ يَوْمِ الزَّحْفِ ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَاتِ ، وَالِانْتِقَالُ إِلَى الْأَعْرَابِ بَعْدَ هِجْرَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کبیرہ گناہوں میں ، پہلا گناہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ہے ( اور دوسرے کبیرہ گناہ یہ ہیں : ) کسی کو ناحق طور پر قتل کرنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، اور ہجرت کر لینے کے بعد ، دیہاتی زندگی کی طرف لوٹ جانا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 382
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 109»
حدیث نمبر: 383
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " . وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحْتَبِيًا فَحَلَّ حَبْوَتَهُ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرَفِ لِسَانِهِ وَقَالَ : " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، اور والدین کی نافرمانی کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” اقعاء “ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے حبوہ کو کھولا اور اپنی زبان کا کنارہ پکڑ کر ارشاد فرمایا : خبردار ! جھوٹی بات ( بھی ، سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مساور ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 384
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرَأَيْتُمُ الزَّانِيَ وَالسَّارِقَ وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هُنَّ فَوَاحِشُ ، وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ ! الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ : " وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا " ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، ثُمَّ قَرَأَ : " أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ " ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ فَقَالَ : " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُلُّ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ كَبِيرَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ وَعَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زانی ، چور اور شراب نوشی کرنے والے شخص کے بارے میں ، تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ برائیاں ہیں اور ان کی سزا بھی ہے ، لیکن کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ( وہ یہ ہیں : ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہے ، وہ بڑے گناہ کا الزام عائد کرتا ہے “ ۔ ( اور دوسرا بڑا گناہ ) والدین کی نافرمانی کرنا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کرو اور میری ہی طرف لوٹنا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : خبردار ! اور جھوٹی بات بھی ( کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ) “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہر وہ چیز ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو ( اس کا ارتکاب ) کبیرہ گناہ شمار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور یہ روایت اس نے ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2633»
حدیث نمبر: 385
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ " ، فَسَكَتَ النَّاسُ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَنْهُمْ ؟ الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! لوگ خاموش رہے ، کسی نے کوئی بات نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے ان کے ( یعنی کبیرہ گناہوں کے ) بارے میں دریافت نہیں کرو گے ؟ ( وہ یہ ہیں : ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، اور ہجرت کر لینے کے بعد دیہاتی زندگی اختیار کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 385
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5636»
حدیث نمبر: 386
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ " ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، أَبْشِرُوا ، مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ; دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " . قَالَ الْمُطَّلِبُ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو : أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُهُنَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتا ہوں ! میں قسم اٹھاتا ہوں ! پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوش خبری حاصل کرو ! تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو ! کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے ، اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے ، وہ جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا ، مطلب نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ( کبیرہ گناہوں ) کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ کبیرہ گناہ یہ ہیں ) والدین کی نافرمانی کرنا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، یتیم کا مال کھانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور سود کھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ولید بن عباس ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 387
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْفَعُ مَعَهُنَّ عَمَلٌ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزوں کے ہمراہ ، کوئی عمل فائدہ نہیں دے گا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے ، جو انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 387
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1420»
حدیث نمبر: 388
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعٌ ، فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ مِنِّي عَلَيْهِنَّ يَوْمَ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا ، لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَسْرِقُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ( شاید راوی بیان کرتے ہیں : وہ چار چیزیں ہیں جب سے میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے بارے میں سنا ہے ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! تم لوگ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دینا ، اور اُس جان کو قتل نہ کرنا ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور تم زنا نہ کرنا ، اور تم چوری نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 339/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6316 ، 6317»
حدیث نمبر: 389
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَمْ يَكُنْ سَاحِرًا يَتَّبِعُ السَّحَرَةَ ، وَلَمْ يَحْقِدْ عَلَى أَخِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر کسی شخص میں ان میں سے کوئی ایک بھی چیز نہ ہو ، تو پھر ( اُس کے علاوہ ، اُس شخص کے گناہوں میں سے ) اللہ تعالیٰ جس کی چاہے گا ، مغفرت کر دے گا ، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے ، کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ، اور وہ جادو کرنے والا نہ ہو کہ جادوگروں کے پیچھے جاتا ہو ، اور وہ اپنے بھائی کے خلاف دشمنی کا اظہار نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13004 ، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 917»
حدیث نمبر: 390
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَبَائِرُ سَبْعٌ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَقَذَفُ الْمُحْصَنَةِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالرُّجُوعُ إِلَى الْأَعْرَابِيَّةِ بَعْدَ الْهِجْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کبیرہ گناہ سات ہیں ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، اُس جان کو قتل کرنا ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، البتہ اُس کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، اور ہجرت کرنے کے بعد دیہاتی زندگی کی طرف لوٹ جانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اُس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5709»
حدیث نمبر: 391
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْكَبَائِرُ ؟ قَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالْإِيَاسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 391
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 106»
حدیث نمبر: 392
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ . وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے ( خود کو ) محفوظ سمجھنا ، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی مہربانی سے ناامید ہونا ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سب سے بڑے کبیرہ گناہ “ اس کی سند صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8783 ، 8784 ، 8785»
حدیث نمبر: 393
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، فَمَنْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّهُ ; فَهُوَ كَفَّارَةٌ ، وَمَنْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ضَمِنْتُ لَهُ عَلَى اللَّهِ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لوں گا کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دو گے ، اور تم کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرو گے ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور تم زنا نہیں کرو گے ، اور تم چوری نہیں کرو گے ، اور تم نشہ آور چیز نہیں پیو گے ، جو شخص ان میں سے کوئی کام کرے گا اور پھر اُس پر حد قائم ہو جائے ، تو وہ کفارہ بن جائے گی ، اور جس شخص کی اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کر لے ، تو اُس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ، جو شخص ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کرے گا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اسے عمرو بن شعیب نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 393
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 923»
حدیث نمبر: 394
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُطْفَأُ نَارُهُ ، وَلَا تَمُوتُ دِيدَانُهُ ، وَلَا يُخَفَّفُ عَذَابُهُ - الَّذِي يُشْرِكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَجُلٌ جَرَّ رَجُلًا إِلَى سُلْطَانٍ بِغَيْرِ ذَنْبٍ فَقَتَلَهُ ، وَرَجُلٌ عَقَّ وَالِدَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سِنَانٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس شخص کی آگ نہیں بجھے گی ، اُس کا کام ختم نہیں ہو گا ، اور اس کے عذاب میں تخفیف نہیں ہو گی ، وہ شخص جو کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہو ، یا وہ شخص جو کسی بے گناہ کو پکڑ کر حاکم وقت کے پاس لے جاتا ہے ، اور وہ حاکم کی سے قتل کر دیتا ہے ، اور وہ شخص جو اپنے والدین کا نافرمان ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن سنان ہے ، اسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 394
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجة الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5993»
حدیث نمبر: 395
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْإِيمَانِ وَالنُّذُورِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بڑے کبیرہ گناہوں میں ، اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا شامل ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ مکمل روایت ، قسموں اور نذروں سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 395
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 3237»
حدیث نمبر: 396
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ . قَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ عُذِّبْتَ وَحُرِّقْتَ ، أَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَخْرَجَاكَ مِنْ مَالِكَ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ هُوَ لَكَ ، لَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ ، لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ; فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ ، لَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّهُ لَكَ ، أَنْفِقْ مِنْ طَوْلِكَ عَلَى أَهْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ ، أَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : كَانَ صَدُوقًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجیے ! کہ جب میں اس پر عمل کر لوں ، تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو ! خواہ تمہیں عذاب دیا جائے ، یا تمہیں جلا دیا جائے ، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو ! اگرچہ وہ تمہیں تمہارے مال سے اور تمہاری ہر چیز سے باہر نکال دیں ، اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ، اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم شراب نہ پینا ، کیونکہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ، اور تم حکومت کے بارے میں ، اُس کے متعلقہ افراد سے جھگڑا نہ کرنا ، اگرچہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تمہیں اُس کا حق ہے ، اور تم اپنی گنجائش میں سے ، اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا ، اور اُن سے اپنا عصا نہ اُٹھانا ، انہیں اللہ تعالیٰ کا ڈر دلاتے رہنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، ثوری فرماتے ہیں : وہ صدوق تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 396
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 7956»
حدیث نمبر: 397
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَمَنْعُ فَضْلِ الْمَاءِ ، وَمَنْعُ الْفَحْلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، اضافی پانی نہ دینا ، اور نر جانور کو ( جفتی کے لیے ) نہ دینا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ، وہ ضعیف ہے ، کسی نے اُس کی توثیق نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 397
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 107»
حدیث نمبر: 398
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا أَمْرَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ . وَثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ ; فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ ، وَإِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فَجَعَلَهُمَا حَدِيثَيْنِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین افراد ہیں ، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ، اپنے امام کی نافرمانی کرے ، اور گناہ گار ہونے کے عالم میں مر جائے ، وہ کنیز یا غلام ، جو اپنے آقا کو چھوڑ کر مفرور ہو جائے ، اور اسی حالت میں مر جائے ، وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ ہو ، اور شوہر نے اُس عورت کی ضروریات فراہم کی ہوئی ہوں ، تو شوہر کی غیر موجودگی میں وہ زینت کا اظہار کرے ، تین افراد ہیں ، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ، وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اُس کا مقابلہ کرتا ہے ، اُس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا تہبند ، عزت ( غلبہ ) ہے وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے ، اور وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے دو مختلف احادیث کے طور پر نقل کیا ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 398
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 19/6»
حدیث نمبر: 399
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ الْمَرْأَةُ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَلْعَنُهَا اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ وَخُزَّانُ الرَّحْمَةِ وَخُزَّانُ الْعَذَابِ - مَا انْتَهَكَتْ مِنْ مَعَاصِي اللَّهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُحَوَّلُ مِنْ كِتَابِ الضُّعَفَاءِ ، لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عورت پر فرشتے مسلسل لعنت کرتے رہتے ہیں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس پر اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتے ، رحمت کے نگران فرشتے ، عذاب کے نگران فرشتے لعنت کرتے ہیں ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سے ، کسی بھی چیز کا ارتکاب کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سلمان اغر ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں کیا ہے ، ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کو کتاب ” الضعفاء “ سے منتقل کر دیا جائے گا کیونکہ میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 110»
حدیث نمبر: 400
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ الْمُتَقَذِّرُونَ " . قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ : الْمُتَقَذِّرُونَ : الَّذِينَ يَأْتُونَ الْقَاذُورَاتِ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” گندگی والے لوگ ، ہلاکت کا شکار ہو گئے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : ابن اثیر نے کتاب ” النہایہ “ میں یہ بات بیان کی ہے : گندگی والے لوگوں سے مراد ، وہ لوگ ہیں ، جو گندی عورتوں کے پاس جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 400
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 6672»
حدیث نمبر: 401
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا - هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ - كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ . قُلْتُ : وَيَأْتِي لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّوْبَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو ! جو تمہارے نزدیک بال سے زیادہ باریک ہوتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کر دینے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن راشد ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اس حدیث کے مختلف طرق ، توبہ سے متعلق باب میں آئیں گے ، ان شاء اللہ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 401
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 108»