عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے ، مرنے کے دن تک ، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ، اپنے چہرے کے بل گرا رہے ، تو قیامت کے دن ، وہ اس عمل کو بھی حقیر سمجھے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن یہاں اس نے ” تحدیث “ کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے باقی راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 185/4، زوائد 4922»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا جرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن ابوعمرہ رضی اللہ عنہ ، جو صحابہ کرام میں سے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ” اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے لے کر ، بوڑھا ہونے کے بعد مرنے کے دن تک ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے چہرے کے بل چلتا رہے ، تو قیامت کے دن وہ اسے بھی حقیر سمجھے گا ، اور یہ آرزو کرے گا : کہ اُسے دنیا کی طرف واپس بھیج دیا جائے ، تاکہ اُس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 185/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 4923»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ مَوْضِعُ قَدَمٍ وَلَا شِبْرٍ وَلَا كَفٍّ ، إِلَّا فِيهِ مَلَكٌ قَائِمٌ ، أَوْ مَلَكٌ سَاجِدٌ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالُوا جَمِيعًا : سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ إِلَّا أَنَّا لَمْ نُشْرِكْ بِكَ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : كَانَ أُمِّيًا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ساتوں آسمانوں میں ، ایک قدم جتنی ، یا ایک بالشت جتنی ، یا ایک تھیلی جتنی جگہ ( بھی خالی نہیں ہے ، ہر جگہ پر ) یا کوئی فرشتہ قیام کی حالت میں ، یا کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں ( عبادت کر رہا ہے ) جب قیامت کا دن ہو گا ، تو وہ سب یہی کہیں گے : تو ہر عیب سے پاک ہے ، ہم نے تیری ویسے عبادت نہیں کی ، جو تیری عبادت کا حق ہے ، تاہم ، ہم کسی کو تیرا شریک قرار نہیں دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ پڑھا لکھا نہیں تھا ، اور قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف