مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَدْرَكْتُ أَبَا جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ صَرِيعًا فَقُلْتُ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ : وَبِمَا أَخْزَانِي اللَّهُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟ وَمَعِي سَيْفٌ لِي فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ وَلَا يَحْتَكُّ فِيهِ شَيْءٌ ، وَمَعَهُ سَيْفٌ لَهُ جَيِّدٌ ، فَضَرَبْتُ يَدَهُ فَوَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُهُ . ¤ ثُمَّ كَشَفْتُ الْمِغْفَرَ عَنْ رَأْسِهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ : " انْطَلِقْ فَاسْتَثْبِتْ " . فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ أَضْحَكُ ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقْ فَأَرَنِي " . فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَأَرَيْتُهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، میں نے ابوجہل کو پایا کہ وہ ( زخمی حالت میں ) پڑا ہوا تھا ، میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوائی کا شکار کر دیا ہے ، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے کس حساب سے رسوائی کا شکار کیا ہے ؟ میں ایک شخص ہوں ، جسے تم نے قتل کر دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے پاس میری تلوار تھی ، میں نے وہ اسے چبھونا شروع کی ، میں چھوٹے قدموں سے اس کے قریب ہوا ، اس کے ساتھ اس کی ایک عمدہ تلوار تھی ، میں نے اس کے ہاتھ پر ضرب لگائی تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ، میں نے اسے پکڑا ، پھر میں نے اس کے سر سے خود کو ہٹایا اور اس کی گردن اڑا دی ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور تصدیق کر لو ، میں چلا ، میں پرندے کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، پھر میں پرندے کی طرح واپس آیا ، میں ہنس رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلو ، اور مجھے بھی دکھاؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا اور میں نے آپ کو ابوجہل دکھایا ، جب آپ اس کے پاس ٹھہرے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن وہب بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔