حدیث نمبر: 9940
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ مُنْصَرَفَهُ عَنْ حَمْزَةَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ نَزَلَ يَثْرِبَ ، وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا ، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طَرِيقَهُ وَأَنْ تُقَارِبُوهُ ; فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي ، إِنَّهُ حَنَقٌ عَلَيْكُمْ نَفَيْتُمُوهُ نَفْيَ الْقِرْدَانِ عَلَى الْمَنَاسِمِ ، وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَسُجْرَةً مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا رَأَيْتُ مَعَهُمُ الشَّيَاطِينَ ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنِي قَيْلَةَ ، فَهُوَ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ . ¤ فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيِّ : يَا أَبَا الْحَكَمِ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَصْدَقَ لِسَانًا ، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا مِنْ أَخِيكُمُ الَّذِي طَرَدْتُمْ ، فَإِذْ فَعَلْتُمُ الَّذِي فَعَلْتُمْ ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ : كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ ; فَإِنَّ ابْنِي قَيْلَةَ إِنْ ظَفِرُوا بِكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ، وَإِنْ أَطَعْتُمُونِي أَلْحِقُوهُمْ خَبَرَ كِنَانَةَ أَوْ تُخْرِجُوا مُحَمَّدًا مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ فَيَكُونَ وَحِيدًا طَرِيدًا ، وَأَمَّا ابْنَا قَيْلَةَ فَوَاللَّهِ مَا هُمَا وَأَهْلُ دَهْلِكَ فِي الْمَذَلَّةِ إِلَّا سَوَاءٌ ، وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ ، وَقَالَ : ¤ سَأَمْنَحُ جَانِبًا مِنِّي غَلِيظًا عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرْبٍ وَبُعْدِ رِجَالُ الْخَزْرَجِيَّةِ أَهْلُ ذُلٍّ إِذَا مَا كَانَ هَزْلٌ بَعْدَ جَدِّ ¤ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ ، وَلَأُصَلِّبَنَّهُمْ ، وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ وَهُمْ كَارِهُونَ ، إِنِّي رَحْمَةٌ بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا يَتَوَفَّانِي حَتَّى يُظْهِرَ اللَّهُ دِينَهُ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وِجَادَةً مِنْ طَرِيقِ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيِّ قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابٍ بِالْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ابوجہل ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے مل کے واپس مکہ آیا ، تو اس نے کہا: اے قریش کے گروہ ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں ٹھہر چکے ہیں ، انہوں نے اپنے جاسوس بھیج دیے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں نقصان پہنچائیں ، تو تم ان کے راستے سے گزرنے سے بچو ، بلکہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ ، کیونکہ وہ چیر پھاڑ کرنے والے شیر کی مانند ہیں ، وہ تمہارے خلاف غیظ و غضب رکھتے ہیں “ تم نے انہیں یوں جلاوطن کیا ہے ، جس طرح بندروں کو راستوں سے پرے کیا جاتا ہے ، اللہ کی قسم ! ان کا ( جوش یا غضب ) بھرپور ہے ، میں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں میں کسی کو جب بھی دیکھا ، تو ان کے ساتھ شیاطین کو دیکھا ہے ، اور تم لوگ قیلہ کے دو بیٹوں کی دشمنی سے واقف ہو ، تو وہ ایک دشمن ہے ، جو دشمن سے مدد حاصل کرتے ہیں ، تو مطعم بن عدی نے اس سے کہا: اے ابوالحکم ! اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو زبان کے اعتبار سے اور وعدے کے اعتبار سے ، تمہارے بھائی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے زیادہ سچا ہو ، جسے تم نے پرے کر دیا ہے ، تم نے جو کیا سو کیا ، لیکن اب ان کے حوالے سے احتیاط کرو ! ابوسفیان بن حارث نے کہا: تم ان کی جتنی مخالفت کر رہے تھے ، وہ شدید ترین مخالفت کرو ! کیونکہ اگر قیلہ کے دو صاحبزادے تمہارے حوالے سے کامیاب ہو گئے ، تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا لحاظ کریں گے ، اگر تم میری بات مانتے ہو ، تو یا تو کنانہ کی اطلاع ان تک پہنچا دو ، یا پھر ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان لوگوں کے درمیان سے نکال دو ! تو وہ تنہا اور اکیلے ہو جائیں گے ، جہاں تک قیلہ کے دو بیٹوں کا تعلق ہے ، تو اللہ کی قسم ! وہ دونوں اور تمہارے تھوڑے سے لوگ ذلت میں برابر ہیں ، اور اُن کی حد کے حوالے سے ، میں تمہاری کفایت کر لوں گا ، پھر اس نے یہ شعر پڑھے : ” میں اپنی طرف سے ایک مضبوط ( بات کا ) عطیہ دے رہا ہوں ، ہر اس شخص کو جو خواہ قریب ہو یا دور ہو ، جب بھی سنجیدگی کے بعد مذاق کی بات ہو گی تو خزرج قبیلے کے لوگ ذلیل ہوں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں انہیں ضرور قتل کروں گا اور میں انہیں ضرور سولی دوں گا اور میں ان کی ضرور رہنمائی کروں گا ، جبکہ وہ مجبور ہوں گے ، میں رحمت ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب نہیں کر دے گا “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” وجادہ “ کے طور پر ، أحمد بن صالح مصری سے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے مدینہ میں ایک تحریر میں یہ بات پائی تھی کہ یہ عبدالعزیز بن محمد دراور دی سے منقول ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1532)»