حدیث نمبر: 994
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ ، فَانْطَلَقَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَبِسَ أَحَدَ خُفَّيْهِ ، فَجَاءَ طَائِرٌ أَخْضَرُ ، فَأَخَذَ الْخُفَّ الْآخَرَ فَارْتَفَعَ بِهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ ، فَخَرَجَ مِنْهُ أَسْوَدُ سَالِحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَرَامَةٌ أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قضائے حاجت کرنا ہوتی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور تشریف لے جایا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( اس سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک موزہ پہن لیا اسی دوران ایک سبز پرندہ آیا ، اس نے وہ دوسرا موزہ پکڑ لیا اور اسے لے کر اڑ گیا ، پھر اس نے وہ موزہ پھینک دیا ، تو اس میں سے سیاہ سانپ نما چیز نکلی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کرامت ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے میری عزت افزائی کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو پیٹ کے بل چلتی ہے ، اور اس کے شر سے بھی ، جو دو ٹانگوں پر چلتی ہے ، اور اس کے شر سے بھی جو چار ٹانگوں پر چلتی ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: موضوع