مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ عُلُوِّ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ عَادَاهُ باب: جو شخص ، نبی اکرم ﷺ سے دشمنی کرے گا ، اُس پر نبی اکرم ﷺ کے معاملے ( یا دین ) کا غالب آ جانا
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : قَالَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ : إِنَّكُمْ قَدْ فَعَلْتُمْ بِمُحَمَّدٍ مَا فَعَلْتُمْ ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : بَلْ كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ ، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ : وَاللَّهِ لَا يَزَالُ أَمْرُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهِرًا فِيمَا نَادَاكُمْ أَوْ أَسَرَّ مِنْكُمْ . ¤ قَالَ أَبُو يُوسُفَ : قُتِلَ الْحَارِثُ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مطعم بن عدی نے ( مشرکین مکہ سے کہا: ) تم لوگوں نے ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ جو بھی کیا ، سو کیا ، لیکن اب اُن کے حوالے سے سب سے زیادہ رُکنے والے بن جاؤ ! تو ابوجہل نے کہا: بلکہ تم لوگ ان کے زیادہ سخت مخالف بن جاؤ ، تو حارث بن عامر بن نوفل نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے تمہارے سامنے بلند آواز میں جو بات کی یا پوشیدہ طور پر جو بات کی ، ہر معاملے کے حوالے سے ( سیدنا ) محمد ( سلام ) کا معاملہ مسلسل غالب ہوتا جا رہا ہے ۔ ابویوسف نامی راوی کہتے ہیں : حارث بن عامر ، غزوہ بدر کے موقع پر ، کافر ہونے کے عالم میں مارا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف اور مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔