حدیث نمبر: 9897
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ تَعَالَى وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ، تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ، جس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے ، اور ذلت اور کمتر ہونا ، اُس شخص کا نصیب کر دیا گیا ، جو میرے معاملے کی مخالفت کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5114 و 5115)»