مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى شَرِيعَةٍ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهِمْ ثَلَاثٌ : مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ ، وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ ، وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ " . قِيلَ : وَمَنِ الصَّقَّارُونَ أَوِ الصَّقَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَزَبَّانُ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ امت مسلسل شریعت پر گامزن رہے گی ، جب تک ان کے درمیان تین چیزیں ظاہر نہیں ہوں گی ، جب تک ان سے علم کو قبض نہیں کر لیا جاتا ، اور ان کے درمیان حنث کی اولاد زیادہ نہیں ہوتی اور ان کے درمیان ” صقارون “ ظاہر نہیں ہوتے ، عرض کی گئی : ” صقارون “ سے مراد کیا ہے ؟ یا رسول اللہ ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ایسے لوگ ہیں ، جو آخری زمانے میں ہوں گے ، اور ان لوگوں کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی ” مسند “ میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ابن لہیعہ اور زبان ہیں ، یہ دونوں ضعیف ہیں ، ان کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔