حدیث نمبر: 9876
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ الْمَوْسِمُ ، حَجَّ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ ، مِنْهُمْ : مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ ، وَأَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ . وَمِنْ بَنِي زُرَيْقٍ : رَافِعُ بْنُ مَالِكٍ ، وَذَكْوَانُ بْنُ عَبَدِ الْقَيْسِ . وَمِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ : أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ . وَمِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ . وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُمْ خَبَرَهُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِهِ مِنْ نُبُوَّتِهِ وَكَرَامَتِهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصَتُوا ، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ ، وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ، فَصَدَّقُوهُ ، وَآمَنُوا بِهِ ، وَكَانُوا مِنْ أَسْبَابِ الْخَيْرِ ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ : قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ مِنَ الدِّمَاءِ ، وَنَحْنُ نُحِبُّ مَا أَرْشَدَ اللَّهُ بِهِ أَمْرَكَ ، وَنَحْنُ - لِلَّهِ وَلَكَ - مُجْتَهِدُونَ ، وَإِنَّا نُشِيرُ عَلَيْكَ بِمَا تَرَى ، فَامْكُثْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى قَوْمِنَا فَنُخْبِرَهُمْ بِشَأْنِكَ ، وَنَدْعُوَهُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَعَلَّ اللَّهَ يُصْلِحُ بَيْنَنَا ، وَيَجْمَعُ أَمْرَنَا ، فَإِنَّا الْيَوْمَ مُتَبَاعِدُونَ مُتَبَاغِضُونَ ، فَإِنْ تَقْدُمْ عَلَيْنَا الْيَوْمَ وَلَمْ نَصْطَلِحْ لَمْ يَكُنْ لَنَا جَمَاعَةٌ عَلَيْكَ ، وَنَحْنُ نُوَاعِدُكَ الْمَوْسِمَ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ . فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قَالُوا ، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ يَدْعُوهُمْ سِرًّا ، وَأَخْبَرُوهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِي بَعَثَهُ اللَّهُ بِهِ ، وَدَعَا عَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ . ¤ ثُمَّ بَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا مِنْ قِبَلِكَ يَدْعُو النَّاسَ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ أَدْنَى أَنْ يُتَّبَعَ . فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ أَخَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، فَنَزَلَ فِي بَنِي غَنْمٍ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَجَعَلَ يَدْعُو النَّاسَ سِرًّا وَيَفْشُو الْإِسْلَامُ وَيَكْثُرُ أَهْلُهُ ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ مُسْتَخْفُونَ بِدُعَائِهِمْ ، ثُمَّ إِنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ أَقْبَلَ هُوَ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ حَتَّى أَتَيَا بِئْرَ مِرِّي أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَجَلَسُوا هُنَالِكَ ، وَبَعَثُوا إِلَى رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَتَوْهُمْ مُسْتَخْفِينَ ، فَبَيْنَمَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُهُمْ وَيَقُصُّ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ أُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَأَتَاهُمْ فِي لَأْمَتِهِ وَمَعَهُ الرُّمْحُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : عَلَامَ يَأْتِينَا فِي دُورِنَا بِهَذَا الْوَحِيدِ الْفَرِيدِ الطَّرِيحِ الْغَرِيبِ يُسَفِّهُ ضُعَفَاءَنَا بِالْبَاطِلِ وَيَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ، لَا أَرَاكُمَا بَعْدَ هَذَا بِشَيْءٍ مِنْ جِوَارِنَا . فَرَجَعُوا ثُمَّ إِنَّهُمْ عَادُوا الثَّانِيَةَ بِبِئْرِ مُرَّى أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَأُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الثَّانِيَةَ ، فَوَاعَدَهُمْ بِوَعِيدٍ دُونَ الْوَعِيدِ الْأَوَّلِ فَلَمَّا رَأَى أَسْعَدُ مِنْهُ لِينًا قَالَ : يَا ابْنَ خَالَةَ ، اسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ، فَإِنْ سَمِعْتَ مِنْهُ مُنْكَرًا ، فَارْدُدْهُ يَا هَذَا مِنْهُ ، وَإِنْ سَمِعْتَ خَيْرًا ، فَأَجِبِ اللَّهَ ، فَقَالَ : مَاذَا يَقُولُ ؟ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ : ( حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ) فَقَالَ سَعْدٌ : وَمَا أَسْمَعُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ ، فَرَجَعَ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَلَمْ يُظْهِرْ أَمْرَ الْإِسْلَامِ حَتَّى رَجَعَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَدَعَا بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : مَنْ شَكَّ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى فَلْيَأْتِنَا بِأَهْدَى مِنْهُ ، نَأْخُذُ بِهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ أَمْرٌ لَتُحَزَّنَّ فِيهِ الرِّقَابُ ، فَأَسْلَمَتْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ عِنْدَ إِسْلَامِ سَعْدٍ وَدُعَائِهِ إِلَّا مَنْ لَا يُذْكَرُ ، فَكَانَتْ أَوَّلَ دُورٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَتْ بِأَسْرِهَا . ¤ ثُمَّ إِنَّ بَنِي النَّجَّارِ أَخْرَجُوا مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ ، وَاشْتَدُّوا عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَانْتَقَلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو وَيَهْدِي اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ ، وَأَسْلَمَ أَشْرَافُهُمْ ، وَأَسْلَمَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ ، وَكُسِّرَتْ أَصْنَامُهُمْ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ أَعَزَّ أَهْلِهَا ، وَصَلَحَ أَمْرُهُمْ ، وَرَجَعَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُدْعَى : الْمُقْرِئُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : جب حج کا موقع آیا ، تو انصار میں سے بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حج کے لئے آئے ، جن میں سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے ، ہنو زریق میں سے سیدنا رافع بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ذکوان بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ تھے ، بنو اشہل میں سے سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ تھے ، بن عمرو بن عوف میں سے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کے پاس آئے اور ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور عزت افزائی کے لئے آپ کو منتخب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا ، تو وہ خاموش رہے ، ان کے دل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے حوالے سے مطمئن ہو گئے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ وہ لوگ اہل کتاب سے جس کا تذکرہ سنتے تھے ، اس کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں ، آپ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اس حوالے سے آپ کی تصدیق کی ، آپ پر ایمان لائے اور وہ لوگ بھلائی کے اسباب میں سے ہو گئے ، پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں اوس اور خزرج کے درمیان دشمنی پائی جاتی ہے ، ہمیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ جب آپ کے معاملے کو کامیابی سے دو چار کرے ، تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے اور آپ کے لئے کوشش کرنے والے ہوں ، آپ کو جو مناسب لگتا ہے ، ہم آپ سے وہی طے کرتے ہیں ، آپ اللہ کا نام لے کر یہاں ٹھہرے رہیں ، ہم اپنی قوم کے پاس جاتے ہیں اور انہیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں اور انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان بہتری کر دے اور ہمارے معاملے کو اکٹھا کر دے ، آج ہم ایک دوسرے سے جدا ہیں ، ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہیں ، اگر اب آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آپس میں صلح نہ ہوئی ، تو ہم اجتماعی طور پر آپ کا ساتھ نہیں دے سکیں گے ، ہم اگلے سال حج کے موقع پر دوبارہ آپ سے ملاقات کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کہی ہوئی بات سے راضی ہو گئے اور وہ لوگ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ، وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے رہے اور ان تعلیمات کے بارے میں بتاتے رہے ، جن کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ، انہیں قرآن کی دعوت دیتے رہے ، یہاں تک کہ انصار کے تقریباً ہر ایک محلے میں کچھ لوگ مسلمان ہو گئے ۔ پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ ہماری طرف اپنے میں سے کسی فرد کو بھیجیں ، جو لوگوں کو اللہ کی کتاب کے مطابق دعوت دے ، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی پیروی کی جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعبدالدار سے تعلق رکھنے والے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیج دیا ، انہوں نے بنو غنم کے علاقے میں سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا اور پوشیدہ طور پر لوگوں کو دعوت دینے لگے اور اسلام پھیلنے لگا اور اس کے ماننے والے زیادہ ہو گئے ، ابھی ان کی دعوت کی بنیاد پر یہ لوگ پوشیدہ زندگی گزار رہے تھے ، تو اسی دوران ایک مرتبہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ” مری “ کے کنویں کے پاس آئے ، یا اس کے قریب آئے اور وہاں بیٹھ گئے ، انہوں نے کچھ لوگوں کو پیغام بھیجا تھا ، وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کے پاس آئے ، ابھی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہیں قرآن کے بارے میں بتا رہے تھے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کے بارے میں بتا دیا گیا ، تو وہ اسی وقت ہتھیار پہن کر ان لوگوں کے پاس آئے اور ان کے پاس نیزہ بھی تھا ، وہ آ کر سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور بولے : یہ اجنبی ، اکیلا وطن سے دور شخص کس لئے ہمارے علاقے میں آیا ہے ؟ تاکہ باطل کے ذریعے ہمارے کمزور لوگوں کو بے وقوف بنا لے ، اور باطل کی طرف ان لوگوں کو دعوت دے ؟ اب کے بعد میں تمہیں اپنے علاقے میں نہ دیکھوں ، تو وہ لوگ واپس چلے گئے ، پھر وہ لوگ دوبارہ ” مری“ نامی کنویں یا اس کے پاس آئے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دوسری مرتبہ ان کے بارے میں بتایا گیا ، تو انہوں نے پھر سخت دھمکی دی ، لیکن وہ پہلی سے کم تھی ، جب سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف سے نرمی دیکھی ، تو کہا: اے میرے خالہ زاد ! آپ اس کی بات سن لیں ، اگر آپ نے اس سے کوئی منکر بات سنی ، تو آپ اس کو مسترد کر دیجئے گا اور اگر کوئی بھلائی کی بات سنی ، تو آپ اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کر لیجئے گا ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا کہتا ہے ؟ تو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم ! کتاب مبین کی قسم ہے ، ہم نے اسے عربی قرآن بنایا ہے ، تاکہ تم اسے سمجھ لو “ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صرف وہ بات سنوں گا جسے میں اچھا سمجھوں گا ، پھر وہ واپس چلے گئے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کر دی لیکن واپس جانے تک انہوں نے اسلام کے معاملے کو ظاہر نہیں کیا پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور بنو عبداشہل کو اسلام کی طرف دعوت دی ، اور اپنے اسلام کو ظاہر کر دیا ، انہوں نے اس بارے میں یہ کہا: جو بھی چھوٹا یا بڑا مرد یا عورت اس بارے میں شک کرتے ہیں ، تو وہ ہمارے پاس ایسی چیز لے آئیں ، جو اس سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اسے اختیار کر لیں گے ، اللہ کی قسم ! ایک ایسا معاملہ آیا ہے ، اس کے بارے میں گردنیں غمگین ہو جاتی ہیں ، تو بنوعبداشہل نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے وقت اور ان کی دعوت کے وقت اسلام قبول کر لیا ، البتہ اس شخص نے نہیں کیا ، جس کے سامنے اس کی تبلیغ نہیں ہوئی تھی ، تو یہ انصار کا وہ پہلا خاندان تھا جو مکمل مسلمان ہو گیا ، پھر بنونجار نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو نکال دیا اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ پر سختی کی ، تو سیدنا مصعب عمیر رضی اللہ عنہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں منتقل ہو گئے اور مسلسل دعوت دیتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر اتنے لوگوں کو ہدایت نصیب کی کہ انصار کے ہر خاندان میں کچھ افراد مسلمان ہو گئے ، ان کے معززین مسلمان ہو گئے ، سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے اور ان کے بتوں کو توڑ دیا گیا ، تو مسلمان وہاں کے رہنے والوں میں نمایاں حیثیت کے مالک ہو گئے ، ان کا معاملہ ٹھیک ہو گیا پھر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس چلے گئے ، انہیں ” قاری صاحب“ کہا: جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، یہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (362/20)»