مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى الْإِسْلَامِ الَّتِي تُسَمَّى بَيْعَةَ النِّسَاءِ باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
وَعَنْ أَبِي نَصْرٍ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْتَحِنُ النِّسَاءَ ؟ قَالَ : كَانَ إِذَا أَتَتْهُ الْمَرْأَةُ لِتُسْلِمَ ، أَحْلَفَهَا بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِبُغْضِ زَوْجِهَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِاكْتِسَابِ دُنْيَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤ابونصر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کا امتحان کیسے لیتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : جب کوئی خاتون اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کے پاس آتی تھی ، تو آپ اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے نہیں نکلی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے نہیں نکلی ہے اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں نکلی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خاطر نکلی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔