حدیث نمبر: 985
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ : حَضَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ قَبْلَ ذَهَابِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ يَذْهَبُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَاهُ وَعَلَّمْنَاهُ أَبْنَاءَنَا ؟ فَغَضِبَ . قَالَ : " أَوَلَيْسَ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ فِي يَدِ أَهْلِ الْكِتَابِ ؟ فَهَلْ أَغْنَى عَنْهُمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ترغیب دی کہ علم کے رخصت ہونے سے پہلے علم حاصل کر لیا جائے ، ایک صاحب بولے : وہ کیسے رخصت ہو گا ؟ جبکہ ہم نے اس کو سیکھا ہے اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اہل کتاب کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھیں ، تو کیا یہ چیز اُن کے کسی کام آئی ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7398»