مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِزْيَةِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ الْمَجُوسُ لَهُمْ كِتَابٌ يَقْرَؤُونَهُ ، وَعِلْمٌ يَدْرُسُونَهُ ، فَزَنَى إِمَامُهُمْ ، فَأَرَادُوا أَنْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَلَيْسَ آدَمُ كَانَ يُزَوِّجُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ ؟ فَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَرُفِعَ الْكِتَابُ ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجِزْيَةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَأَنَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجوسیوں کی ایک ( الہامی ) کتاب تھی جسے وہ پڑھا کرتے تھے اور علم تھا ، جس کا وہ درس دیا کرتے تھے ایک مرتبہ ان کے حکمران نے زنا کیا ان لوگوں نے اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے ان لوگوں سے کہا: کیا سیدنا آدم نے اپنے بیٹوں کی شادیاں اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہیں کی تھیں ، تو ان لوگوں نے اس پر حد جاری نہیں کی پھر کتاب کا علم اٹھا لیا گیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجوسیوں سے ) جزیہ وصول کیا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا ، اور میں بھی ( جزیہ وصول کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ متروک ہے ۔