مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعَهُ هَذِهِ الْقَطِيعَةَ ، وَكَتَبَ لَهُ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ ، أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ ، غَوْرِيَّهَا وَجَلْسِيَّهَا ، عُشْبَةٌ وَذَاتُ النُّصُبِ ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ إِنْ كَانَ صَادِقًا " . وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ قطع اراضی جاگیر کے طور پر دیا تھا ان کے لئے یہ تحریر لکھوائی تھی : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اللہ کے رسول نے یہ جگہ بلال بن حارث کو دی ہے ، جو ” قبلیہ “ ( نامی جگہ ) کی معدنیات ہے اور اس کے بالائی اور نشیبی حصے سمیت ہے ، وہاں کی گھاس پھوس ، اور وہ بالائی جگہ بھی جہاں کھیتی باڑی ہو سکے ، اگر یہ سچا ہے “ ۔ یہ تحریر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھ کر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔