حدیث نمبر: 9722
وَعَنْ رَزِينِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ كَانَ لَنَا بِئْرٌ فَخِفْتُ أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَهَا ؟ فَكَتَبَ لِي كِتَابًا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ، أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنَّ لَهُمْ بِئْرَهُمْ ، إِنْ كَانَ صَادِقًا ، وَلَهُمْ دَارَهُمْ إِنْ كَانَ صَادِقًا " . ¤ قَالَ : فَمَا قَاضَيْنَا بِهِ إِلَى أَحَدٍ مِنْ قُضَاةِ الْمَدِينَةِ إِلَّا قَضَى لَنَا بِهِ . ¤ قَالَ : وَفِي كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِجَاءُ "كَانَ" : " كَوْنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رزین بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اسلام ظاہر ہوا تو ہمارا ایک کنواں تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے آس پاس کے افراد اس کنویں کے حوالے سے ہم پر غالب آ جائیں گے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس کے آس پاس کے افراد اس کے حوالے سے ہم پر غالب آ جائیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے تحریر لکھوائی : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اما بعد ! ان لوگوں کا کنواں ہے اگر یہ سچا ہے اور ان لوگوں کا علاقہ ہے اگر یہ سچا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد مدینہ منورہ کے قاضیوں میں سے کسی قاضی کے سامنے ہمارا مقدمہ پیش ہوا تو اس تحریر کی بنیاد پر اس قاضی نے ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب شریف میں لفظ کان کو لفظ کون کے طور پر لکھا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابويعليٰ فى المسند (7178) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4130)»