حدیث نمبر: 972
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ أَحْمِلُ اللَّحْمَ مِنَ السَّهْلِ إِلَى الْجَبَلِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثًا فِي : أَنَّ الدَّجَّالَ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَلَا أَدْرِي أَرَادَ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ هَذَا وَحْدَهُ أَوْ جَمِيعِ حَدِيثِهِ ، وَالْآخَرُ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے ، میں اُس وقت لڑکا تھا ، اور نیچے سے گوشت اُٹھا کر پہاڑ پر لے جایا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے مہدی بن عمران نے روایت کیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کرنے میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی ہے انہوں نے اس کے حوالے سے وہ حدیث نقل کی ہے ، جن میں یہ مذکور ہے : دجال ، ابن صیاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : مجھے نہیں معلوم کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ صرف اُس ایک حدیث کے حوالے سے اس کی سماعت نہیں کی گئی ہے ، یا ان کی مراد اس راوی کی نقل کردہ تمام حدیث ہیں ، دوسرا راوی خالد بن ابویحیی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6048 اورده المؤلف فى كشف الاستار 224»