حدیث نمبر: 9716
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا إِلَى الْيَمَنِ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً فَلَمَّا مَضَى قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، الْحَقْهُ وَلَا تَدْعُهُ ، مِنْ خَلْفِهِ وَلْيَقِفْ وَلَا يَلْتَفِتْ حَتَّى أَجِيئَهُ " . فَأَتَاهُ فَأَوْصَاهُ بِأَشْيَاءَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي الرُّوَاةِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّرِيقِ الْأُولَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا آپ نے ان کے لئے جھنڈا باندھا جب وہ چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابورافع تم اس کے پاس جا کے اسے ملوا سے تم پیچھے سے نہ بلانا اور وہ مڑ کے نہ دیکھے جب تک میں اس کے پاس نہیں آ جاتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں کچھ باتوں کی تلقین کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام یزید بن ابوزیاد کے حوالے سے نقل کی ہے جس کا ذکر امام مزی نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کرنے والے افراد میں کیا ہے ابن حبان نے ان کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے پہلے طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9716
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (994)»