حدیث نمبر: 9706
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِنْدَهُ ابْنُ عَمْرٍو سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ : اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي ، وَإِنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - - فَذَكَرُ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْوَصَايَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا: ہے اور میں نے اپنے بعد خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے میری وفات کے وقت عربوں کے جتنے قیدی ہوں گے وہ اللہ کے مال میں سے آزاد شمار ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے وصیت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن