حدیث نمبر: 970
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، انَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا . وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ ، وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج جو لوگ زندہ ہیں ، اُن میں سے کسی پر بھی ایک سو سال گزرنے کا وقت نہیں آئے گا ، اللہ تعالیٰ کو اس کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہی روایت امام بزار نے ، اس سے زیادہ طویل روایت کے درمیان میں بیان کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس نے اسے عبداللہ بن قدامہ بن صخر سے روایت کیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے ؟

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 227»