مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّايَاتِ وَالْأَلْوِيَةِ . باب: چھوٹے جھنڈوں اور بڑے جھنڈوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9643
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ تَكُونُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقِتَالُ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَكُونُ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ الشَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص جھنڈا سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا ، اور جب جنگ شدید ہو جاتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان افراد کے ساتھ ہوتے تھے جو انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن زفر شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔