حدیث نمبر: 9615
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ فَتًى مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَقَالَ : سَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ وَأَنَا ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . قَالَ : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَكْثَرُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ - أَوْ قَالَ : يَنْزِلَ بِهِ - أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ " . ثُمَّ سَكَتَ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا ظَهَرَ فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ فِي أَسْلَافِهِمْ ، وَلَا نَقَصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا ، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَأَخَذَ بَعْضَ مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَإِذَا لَمْ يَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَتَجَهَّزُ لِسَرِيَّةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا ، فَأَصْبَحَ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَقَضَهَا وَعَمَّمَهُ وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ " . ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا " . ¤ فَهَذَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُنَّتُهُ فِيكُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا مجھ سمیت دس افراد تھے ہم لوگ مسجد نبوی میں تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کہتے ہیں : ایک اور صاحب کا انہوں نے نام لیا تھا ) اور میں تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل ایمان میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اس نے عرض کی : اہل ایمان میں کون زیادہ سمجھدار ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو موت کو کثرت سے یاد رکھے اور اس کے نازل ہونے سے پہلے اس کی بکثرت تیاری رکھے یہی لوگ سمجھدار ہیں پھر آپ خاموش ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : جب بھی کسی قوم میں فحاشی ظاہر ہوتی ہے ، تو ان کے درمیان طاعون اور مختلف قسم کی ایسی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں ، جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں اور جب بھی کوئی قوم ماپنے اور وزن کرنے میں کمی کرتی ہے ، تو انہیں قحط سالی گرفت میں لے لیتی ہے حالات میں سختی آ جاتی ہے حکمرانوں کا ظلم ان پر ہونے لگتا ہے اور جو لوگ اپنے اموال کی زکوۃ نہیں دیتے ہیں ان پر آسمان سے بارش نازل نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ اگر جانور نہ ہوں ، تو ان پر بارش ہی نازل نہ ہو اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد یا اس کے رسول کے نام کے عہد کو توڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ان کی کچھ چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جب کسی قوم کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان مشکل ( یا اختلافات ) ڈال دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے تیاری کریں ، جس کا امیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا اگلے دن جب وہ صبح آئے تو انہوں نے سیاہ رنگ کا ، موٹے اونی کپڑے کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا ان کا عمامہ کھولا انہیں دوبارہ عمامہ باندھا اور پیچھے کی طرف چار انگل کا شملہ چھوڑا پھر آپ نے فرمایا : اے ابن عوف اس طرح عمامہ باندھا کرو ، کیونکہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے اور زیادہ اچھا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں جھنڈا دیں ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر یہ فرمایا : تم سب لوگ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لو ، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ کرو تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا ۔ یہ اللہ کے رسول کا عہد ہے اور تمہارے درمیان ان کی سنت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1676)»