مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: خواتین اور دیگر کو قتل کرنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً وَسَبَاهَا ، فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ فَقَتَلَهَا فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِامْرَأَةٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَقْتُولَةٍ فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ " قَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَ : نَازَعَتْنِي سَيْفِي . فَسَكَتَ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے ایک عورت کو پکڑا اور اسے قیدی بنا لیا اس عورت نے اس کی تلوار کے قائم کے بارے میں اس سے جھگڑا کیا ، تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس عورت کی میت کے پاس سے ہوا آپ کو اس معاملے کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے خواتین کو قتل کرنے سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر غزوہ خندق کے موقع پر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا تو آپ نے دریافت کیا : اسے کس نے قتل کیا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیوں ؟ اس نے عرض کی : یہ میری تلوار چھیننا چاہ رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔