حدیث نمبر: 9584
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : خَالٌ أَنَا أَوْ عَمٌّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ خَالٌ " . فَقَالَ : " قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : هُوَ خَيْرٌ لِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ماموں آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں انہوں نے دریافت کیا : کیا میں ماموں ہوں یا چچا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ماموں ہیں آپ نے فرمایا : آپ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں اس نے عرض کی : کیا یہ میرے لئے بہتر ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (787) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3512) اخرجه احمد فى المسند (152/3)»