حدیث نمبر: 9579
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى قَوْمٍ يُقَاتِلُهُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ : " لَا تَدَعْهُ مِنْ خَلْفِهِ ، وَقُلْ لَهُ : لَا تُقَاتِلْهُمْ حَتَّى تَدْعُوَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ایک قوم کی طرف ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بھیجا اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا : تم اسے پیچھے سے نہ بلانا اور اسے کہنا : تم لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرنا جب تک پہلے انہیں دعوت نہیں دے دیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن یحیی قرقسانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح